امریکا کو گرین لینڈ کا مالک ہونا چاہیے تاکہ روس یا چین اس پر قبضہ نہ کرلیں، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کو گرین لینڈ کا مالک ہونا چاہیے تاکہ روس یا چین اس پر قبضہ نہ کرلیں، روس یا چین کو اپنے ہمسائے نہیں بنا سکتے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ چین یا روس گرین لینڈ تک پہنچیں، ان کا کہنا تھا کہ اگر گرین لینڈ کو امریکا کا حصہ نہ بنایا گیا تو روس یا چین امریکا کے اگلے پڑوسی بن سکتے ہیں جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اور روس کی عوام سے پیار کرتا ہوں لیکن انہیں امریکا کا پڑوسی نہیں بنایا جا سکتا۔ گرین لینڈ کے لیے رقم پر ابھی بات نہیں ہو رہی اس علاقے کے مالی معاملات پر فیصلہ بعد میں ہوگا۔
چین اور روس ہم سے وینزویلا کا تیل خرید سکتے ہیں، ٹرمپ
وائٹ ہاوس میں امریکی آئل کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وینزویلا میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر غور کر رہے ہیں جبکہ امریکا اور وینزویلا کے پاس دنیا کا 55 فیصد تیل ہے، امریکا نے گزشتہ روز وینزویلا سے 3 کروڑ بیرل تیل لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اور روس ہم سے وینزویلا کا تیل خرید سکتے ہیں۔
وینزویلا میں تیل کا کاروبار فوری طور پر شروع کر دیا جائے گا وینزویلا میں تیل کے بڑے ذخائر موجود ہیں اور دیکھا جائے گا کہ آئل کمپنیاں وہاں کا انفرا اسٹرکچر کیسے بہتر بناتی ہیں، انہوں نے کہا کہ تیل کے تاجروں کو وینزویلا میں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے زور دیا کہ امریکا نے وینزویلا میں مداخلت نہ کی ہوتی تو وہاں روس یا چین پہنچ چکے ہوتے۔ انہوں نے وینزویلا سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور وینزویلا کے تعلقات بہت بہتر سمت میں جا رہے ہیں اور وینزویلا میں تیل کے کاروبار سے امریکی عوام کو براہِ راست فائدہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ کیا جائے گا کہ امریکا کی کون سی آئل کمپنیاں وینزویلا میں کام کریں گی جبکہ آئل کمپنیاں وینزویلا سے نہیں ہمارے ساتھ براہِ راست معاہدے کریں گی۔
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر تنقید کرتے ہوئے ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ مادورو نے کئی افراد کو قتل کیا اور متعدد لوگوں کو غیرقانونی حراست میں رکھا۔
مزید پڑھیںامریکا کا گرین لینڈ کی خریداری کا ممکنہ منصوبہ
اگر ایران میں عوام کا قتل عام ہوا تو امریکا سخت جواب دے گا، ٹرمپ
صدر ٹرمپ نے ایران کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور ایرانی حکومت کو عوام کی جانب سے سخت ردعمل مل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپنے عوام کے ساتھ برسوں برا سلوک کیا، کئی شہروں میں عوام نے کنٹرول سنبھال لیا ہے ۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران میں عوام کا قتل عام ہوا تو امریکا مداخلت کرے گا اور ایران کو سخت جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی صورتحال پر مکمل نظر رکھی ہوئی ہے۔ ایران میں مداخلت کرنے کا مطلب ایران میں فوج اتارنا نہیں۔
پاک بھارت سمیت 8 جنگیں رکوائیں، پاکستان نے بھارت کے 8 طیارے مار گرائے تھے، ٹرمپ
پاک بھارت کشیدگی پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاک بھارت جنگ سمیت آٹھ جنگیں رکوائیں جس پر وزیراعظم پاکستان نے بھی کہا کہ ٹرمپ کی کوششوں سے لاکھوں جانیں بچیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے بھارت کے آٹھ طیارے مار گرائے تھے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے امریکی اجازت کے بغیر وینزویلا سے جانے والا ایک جہاز بھی پکڑ لیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا اپنے مفادات اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ وینزویلا میں وینزویلا سے ٹرمپ نے کہا روس یا چین گرین لینڈ کہ امریکا کرتے ہوئے ایران میں جائے گا
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔