حکومت کا نجی کمپنی سے کینسر ادویات مفت فراہمی کا معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
کینسرکے مریضوں کیلیے بڑی خبر آگئی۔ وزارت قومی صحت کا نجی دواساز کمپنی روش Roche کے ساتھ مفت ادویات فراہمی کا معاہدہ طے پاگیا۔
پبلک پرائیویٹ پارنٹرشپ کے تحت 741 کے قریب مریضوں کو پہلے مرحلے میں مفت ادویات فراہم کی جائیں گی، ہرمریض کو ایک کروڑروپے کی ادویات مفت فراہم کی جائیں گی، 10 لاکھ حکومت پاکستان اور 90 لاکھ نجی کمپنی روش فراہم کریگی ۔
کینسرکے مریضوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت مفت ادویات فراہمی کے معاہدے کی تقریب کا انعقاد ہوا۔ وفاقی سیکریٹری صحت حامد یعقوب شیخ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ اسلام آباد،آزادکشمیر اورگلگت بلتستان کے کینسر مریضوں کومفت ادویات فراہم کی جائیں گی۔ ادویات حکومت پاکستان اور ملٹی نیشنل دواسازکمپنی کے مشترکہ تعاون سے فراہم کی جائے گی۔ پانچ سالہ معاہدے کے تحت کینسرکے ہزاروں مریض مستفید ہوں گے۔
وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے بتایاکہ یہ سہولت پمز میں علاج کے لیے آنیوالے ا سلام آباد ،آزادکشمیر اورگلگت بلتستان کے شہریوں کو میسر ہو گی، پاکستان میں ایک کروڑ تیس لاکھ لوگ مختلف بیماریوں کی وجہ سے غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔
پانچ سال کے دوران کینسرکے ایک مریض پر 98 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ معاہدے سے پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد ہر 741 مریضوں کوفی مریض تقریبا ایک کروڑروپے مفت علاج کی سہولت میسر ہو گی۔ یہ پہلا مرحلہ ہے، اسے مزیدبڑھایاجائے گا، پھیپھڑے،جگر اور بریسٹ کینسرکے مریضوں کوسہولت ملے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مفت ادویات فراہم مریضوں کو فراہم کی
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟