کینسر کے مریضوں کو مفت ادویات فراہمی، حکومت ونجی کمپنی میں معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک)وزارت قومی صحت اور نجی دوا ساز کمپنی روش کے درمیان کینسر کے مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی کے لیے معاہدہ طے پا گیا۔
کینسر کے مریضوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت مفت ادویات فراہمی کے معاہدے کی تقریب کا انعقاد ہوا، جس کے مطابق پبلک پرائیویٹ پارنٹرشپ کے تحت 741 کے قریب مریضوں کو پہلے مرحلے میں مفت ادویات فراہم کی جائیں گی، ہر مریض کو ایک کروڑ روپے کی ادویات مفت فراہم کی جائیں گی، 10 لاکھ حکومت پاکستان اور 90 لاکھ نجی کمپنی روش فراہم کرے گی۔
وفاقی سیکریٹری صحت حامد یعقوب شیخ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلستان کے کینسر کے مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی جائیں گی، ادویات حکومت پاکستان اور ملٹی نیشنل دوا ساز کمپنی کے مشترکہ تعاون سے فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ5 سالہ معاہدے کے تحت کینسر کے ہزاروں مریض مستفید ہوں گے۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ یہ سہولت پمز میں علاج کے لیے آنے والے سلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے شہریوں کو میسر ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک کروڑ 30 لاکھ لوگ مختلف بیماریوں کی وجہ سے غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے، کینسر موذی مرض ہے جس کا علاج بہت ہی مہنگا ہے، 5 سال کے دوران کینسر کے ایک مریض پر 98 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے سے پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر 741 مریضوں کو فی مریض تقریبا ایک کروڑ روپے تک مفت علاج کی سہولت میسر ہو گی۔
مصطفی کمال نے بتایا کہ علاج کی سہولت پمز اسپتال میں اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مریضوں کو میسر ہو گی، یہ پہلا مرحلہ ہے اور اس سے مزید بڑھایا جائے گا، پبلک پرائیویٹ کا اعتماد بحال ہوگا تو مزید منصوبے شروع ہوں گے۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پیلتھ کئیر بیماری سے بچانے کا نام ہے، صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، وزیر اعظم کی رہنمائی اور فکر مندی سے ہم صحت کے شعبے میں بہتری لارہے ہیں اور پمز اسپتال میں اس منصوبے کا آغازہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پھیپھڑے، جگر اور بریسٹ کینسر کے مریضوں کو سہولت ملے گی، پاکستان میں ایک کروڑ 30 لاکھ لوگ بیماری کا علاج کراتے کراتے غریب ہوگئے ہیں،کینسر جیسی موذی بیماری پورے خاندان کو تباہ کردیتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کینسر کے مریضوں کو فراہم کی جائیں گی مفت ادویات فراہم ایک کروڑ بتایا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔