جن کی ہیروئن بنیں پھر انکی ماں کا کردار نبھانا کیسا لگتا ہے؟ اداکارہ نے سچ بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
معروف اداکارہ زینب قیوم بھی ان اداکاراؤں میں سے ایک ہیں جو شوبز میں مرد اداکاروں کی اجارہ داری اور حاکمیت کا شکار ہیں۔
اکثر اداکاراؤں کو دیکھا گیا ہے وہ جس اداکار کے ساتھ ہیروئن آئی تھیں، چند برسوں بعد ڈراموں میں انہی اداکار کی ماں بھی بنیں۔
یہ دہرا معیار عام ہے کہ مرد اداکار کو ہمیشہ ہیرو کے روپ میں دکھایا جاتا ہے جب کہ ان کے ساتھ کی ہیروئن کو چند سالوں بعد ہی ماں کے کردار ملنے لگتے ہیں۔
زینب قیوم بھی ان اداکاراؤں میں سے ایک ہیں جو آج کل ڈراموں میں اُن ہیروز کی ماں بن رہی ہیں جن کے ساتھ بطور ہیروئن آیا کرتی تھیں۔
تاہم زینب قیوم کو اس بات سے کوئی پریشانی نہیں ہے کیوں کہ وہ کردار کو زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔
حالیہ انٹرویو میں اس پر بات کرتے ہوئے اداکارہ نے بتایا کہ جن کی آپ ہیروئن رہی ہیں پھر ڈراموں میں ان کی ماں بننا بہت مشکل اور چیلنجنگ کام ہوتا ہے۔
زینب قیوم نے بتایا کہ لوگ اکثر سوال کرتے ہیں کہ آپ فیصل قریشی یا ہمایوں سعید جیسے اداکاروں کی ماں کا کردار کیوں قبول کر لیتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ میرا جواب یہی ہوتا ہے کہ میں اداکار سے زیادہ پروڈکشن ہاؤس اور ہدایت کار کو ترجیح دیتی ہوں۔
زینب قیوم نے مزید کہا کہ اسی طرح میں کردار پر زیادہ فوکس کرتی ہوں کہ میرے لیے کس کیریکٹر میں زیادہ اپنی صلاحیتوں کو منوانے کا موقع ملے گا۔
سوشل میڈیا صارفین نے زینب قیوم کے اپنے کام سے لگن کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایک فنکار کو اسی سوچ کا حامل ہونا چاہیے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل زینب قیوم کی ماں
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔