زیادہ خسارے والے بجلی فیڈرز کوشمسی توانائی پر منتقل کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک )وزیراعظم شہباز شریف نے زیادہ خسارے والے بجلی فیڈرز شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔بجلی کے شعبے میں جاری اصلاحات سے متعلق جائزہ اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ زیادہ خسارے والے بجلی فیڈرز صوبائی حکومتوں کے تعاون سے شمسی توانائی پر منتقل کیے جائیں، اس اقدام سے خسارے میں چلنے والے فیڈرز کے نقصانات میں کمی ہوگی اور ان علاقوں میں بجلی مسلسل میسر ہوگی۔اجلاس کو پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) اور کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے خسارے میں چلنے والے فیڈرز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایسے فیڈرز کی سولرائزیشن سے مقامی آبادی کے لیے ماحول دوست، کم لاگت اور پائیدار مائیکرو گرڈ قائم کیا جا سکے گا، جس میں مقامی آبادی، صوبائی اور وفاقی حکومتیں شراکت دار ہوں گی۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پیسکو اور کیسکو کے زیادہ نقصان والے فیڈرز میں فی الفور پائیلٹ پروجیکٹس شروع کیے جائیں، پائلٹ پروجیکٹس کامیاب بنانے کے لیے منتخب نمائندوں سے مشاورت اور کمیونٹی کی شرکت یقینی بنائی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: توانائی پر منتقل
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔