زیادہ خسارے والے بجلی فیڈرز کوشمسی توانائی پر منتقل کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260110-08-27
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک )وزیراعظم شہباز شریف نے زیادہ خسارے والے بجلی فیڈرز شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔بجلی کے شعبے میں جاری اصلاحات سے متعلق جائزہ اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ زیادہ خسارے والے بجلی فیڈرز صوبائی حکومتوں کے تعاون سے شمسی توانائی پر منتقل کیے جائیں، اس اقدام سے خسارے میں چلنے والے فیڈرز کے نقصانات میں کمی ہوگی اور ان علاقوں میں بجلی مسلسل میسر ہوگی۔اجلاس کو پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) اور کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے خسارے میں چلنے والے فیڈرز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایسے فیڈرز کی سولرائزیشن سے مقامی آبادی کے لیے ماحول دوست، کم لاگت اور پائیدار مائیکرو گرڈ قائم کیا جا سکے گا، جس میں مقامی آبادی، صوبائی اور وفاقی حکومتیں شراکت دار ہوں گی۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پیسکو اور کیسکو کے زیادہ نقصان والے فیڈرز میں فی الفور پائیلٹ پروجیکٹس شروع کیے جائیں، پائلٹ پروجیکٹس کامیاب بنانے کے لیے منتخب نمائندوں سے مشاورت اور کمیونٹی کی شرکت یقینی بنائی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: توانائی پر منتقل
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔