WE News:
2026-07-24@12:34:25 GMT

ایران میں پُرتشدد مظاہرے، 217 افراد ہلاک

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

 

 

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں مہنگائی اور معاشی بحران کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے پُرتشدد رخ اختیار کر گئے ہیں۔ مختلف شہروں میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 217 تک پہنچنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جبکہ بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ، گرفتاریوں اور انٹرنیٹ بندش کے باعث ملک بھر میں کشیدگی برقرار ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا ایرانی اپوزیشن رہنما رضا پہلوی سے ملاقات سے انکار

عالمی ذرائع ابلاغ، بالخصوص معروف امریکی جریدے ٹائم میگزین کے مطابق ایران میں حکومت مخالف مظاہروں میں گزشتہ رات سے نمایاں شدت دیکھی گئی۔ مختلف شہروں میں مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن کے دوران سرکاری و عوامی املاک کو نشانہ بنایا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے کم از کم 26 بینکوں، 25 مساجد، 2 اسپتالوں اور 48 فائر ٹرکوں کو نقصان پہنچایا، جبکہ متعدد سرکاری عمارتوں اور پولیس اسٹیشنز پر بھی حملے کیے گئے، جن میں کئی اہلکار زخمی ہوئے۔ پرتشدد واقعات کے دوران ایمبولینسوں، بسوں اور شہریوں کی گاڑیوں کو بھی نذرِ آتش کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

ٹائم میگزین کے مطابق ایک ایرانی ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صرف تہران کے 6 اسپتالوں میں 217 مظاہرین کی ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں اکثریت گولی لگنے سے جاں بحق ہوئی۔ تاہم ایرانی حکام کی جانب سے ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی باضابطہ تصدیق تاحال نہیں کی گئی۔

2:30 AM Tehran, Iran – right now: You are watching a revolution happening.

History in the making.

Keep talking about Iran. The mainstream media is finally reporting on it!

It's working.

Remember: the entire world is safer with a FREE IRAN.

Javid Shah!pic.twitter.com/4Wwi1hotpK

— Shirion Collective (@ShirionOrg) January 9, 2026

واشنگٹن ڈی سی میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ نیوز ایجنسی کے مطابق اب تک کم از کم 63 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں 49 عام شہری شامل ہیں۔ سکیورٹی اداروں نے تقریباً ڈھائی ہزار افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ احتجاج کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے انٹرنیٹ سروس بدستور معطل ہے۔

دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مظاہروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ہاتھ ایرانیوں کے خون سے رنگے ہیں اور کچھ فسادی عوامی املاک کو نقصان پہنچا کر امریکی صدر کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کرائے کے عناصر کو برداشت نہیں کرے گا اور قوم سے اتحاد برقرار رکھنے کی اپیل کی۔

یہ بھی پڑھیں:مظاہرین ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے احتجاج کررہے ہیں، آیت اللہ خامنہ ای کا ایران میں مظاہروں پر بیان

ایرانی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ریاستی خودمختاری کے تحفظ کو یقینی بنائے اور بیرونی مداخلت کو روکے۔ وزارت خارجہ کے مطابق ایران کے داخلی معاملات پر امریکی بیانات کھلی مداخلت اور دھوکا دہی کے مترادف ہیں۔

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے بھی بیان میں کہا ہے کہ غیر ملکی حمایت یافتہ عناصر نے احتجاج کو تشدد کی طرف موڑنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق غیر ملکی مداخلت ریاستی خودمختاری کے اصولوں کے خلاف ہے اور ایرانی عوام کی اکثریت ریاست اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایران ایران مظاہرے ایران ہلاکتیں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایران ایران مظاہرے ایران ہلاکتیں

پڑھیں:

فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ

فیفا کی جانب سے امریکی فارورڈ فولارین بالوگن کی ایک میچ کی خودکار معطلی کا اقدام واپس لیے جانے کے فیصلے پر تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فیفا کی ایتھکس کمیٹی میں باضابطہ شکایت دائر کرنے پر غور کر رہی ہے۔

بالوگن کو بوسنیا ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں اسٹریٹ ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا جس کے باعث انہیں بیلجیئم کے خلاف پری کوارٹر فائنل سے باہر ہونا تھا۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد فیفا نے ان کی ایک میچ کی پابندی 12 ماہ کے لیے معطل کر دی جس کے نتیجے میں وہ بیلجیئم کے خلاف میدان میں اترے مگر امریکا کو 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

ناروے فٹبال فیڈریشن کی صدر لیزے کلاوینیس کے مطابق اس معاملے کو فیفا کی جانب سے ٹرمپ کو دیے گئے ’پیس پرائز‘ سے متعلق پہلے سے دائر شکایت کے ساتھ شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔

دوسری جانب بیلجیئم فٹبال فیڈریشن اور یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا نے بھی فیفا کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ فیفا نے بیلجیئم کی وضاحت طلب کرنے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران
  • ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
  • آسام میں سیلاب سے 50 افراد ہلاک، 7 لاکھ بےگھر
  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق