ایرانی سیکیورٹی فورسز مظاہرین پر تشدد سے باز رہیں، فرانس، برطانیہ اور جرمنی کا مشترکہ بیان
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے دوران مظاہرین کی ہلاکتوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی سیکیورٹی فورسز پر زور دیا گیا کہ وہ مظاہرین پر تشدد سے باز رہیں۔
فرانسیسی صدر، برطانوی وزیراعظم اور جرمن چانسلر کی جانب سے ایران کی صورتحال پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ایرانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کے استعمال پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ بیان میں ایرانی حکام پر زور دیا گیا کہ وہ تشدد سے باز رہیں اور انسانی حقوق کا احترام کریں۔
مشترکہ بیان میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ ایرانی حکام کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی آبادی کا تحفظ کریں اور شہریوں کو آزادیٔ اظہار اور پُرامن اجتماع کی اجازت دیں تاکہ عوام کسی بھی قسم کی انتقامی کارروائی کے خوف کے بغیر اپنے بنیادی حقوق استعمال کر سکیں۔
دوسری جانب، گزشتہ روز امریکی صدر نے بھی ایک انٹرویو کے دوران خبردار کیا تھا کہ اگر ایران میں احتجاج کے دوران مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا اس پر بھرپور اور نہایت سخت ردِعمل دے گا۔
واضح رہے کہ ایران میں حکومت مخالف مظاہرے بدستور جاری ہیں۔ غیر ملکی انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق یہ احتجاج ملک کے 100 سے زائد شہروں تک پھیل چکا ہے۔ احتجاجی مظاہروں کے دوران اب تک ہلاک افراد کی تعداد 47 ہوچکی ہے، جن میں کئی سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ تقریباً 2500 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔