فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے دوران مظاہرین کی ہلاکتوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی سیکیورٹی فورسز پر زور دیا گیا کہ وہ مظاہرین پر تشدد سے باز رہیں۔

فرانسیسی صدر، برطانوی وزیراعظم اور جرمن چانسلر کی جانب سے ایران کی صورتحال پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ایرانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کے استعمال پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ بیان میں ایرانی حکام پر زور دیا گیا کہ وہ تشدد سے باز رہیں اور انسانی حقوق کا احترام کریں۔

مشترکہ بیان میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ ایرانی حکام کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی آبادی کا تحفظ کریں اور شہریوں کو آزادیٔ اظہار اور پُرامن اجتماع کی اجازت دیں تاکہ عوام کسی بھی قسم کی انتقامی کارروائی کے خوف کے بغیر اپنے بنیادی حقوق استعمال کر سکیں۔

دوسری جانب، گزشتہ روز امریکی صدر نے بھی ایک انٹرویو کے دوران خبردار کیا تھا کہ اگر ایران میں احتجاج کے دوران مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا اس پر بھرپور اور نہایت سخت ردِعمل دے گا۔

واضح رہے کہ ایران میں حکومت مخالف مظاہرے بدستور جاری ہیں۔ غیر ملکی انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق یہ احتجاج ملک کے 100 سے زائد شہروں تک پھیل چکا ہے۔ احتجاجی مظاہروں کے دوران اب تک ہلاک افراد کی تعداد 47 ہوچکی ہے، جن میں کئی سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ تقریباً 2500 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے دوران گیا کہ

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی

ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔

پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔

مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔

خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دہلی:سیکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرین پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا، بھارتی اخبار کی رپورٹ
  • ایرانی حملے میں 10 شدید زخمی فوجیوں کو جرمنی کے ہسپتال منتقل کیا گیا، نیویارک ٹائمز
  • آپریشن العزم: سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کامیاب کارروائی، 4 دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 4 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ اور سہولت کار بھی پکڑے گئے
  • آپریشن العزم: سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کامیاب کارروائی، 4 دہشتگرد جہنم واصل
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار