تہرن (ویب ڈیسک) ایران میں دس روز سے جاری مظاہروں میں 50 کے قریب ہلاکتیں۔ایران کے مختلف بڑے شہروں میں حکومت مخالف پُرتشدد احتجاج میں مزید شدت آگئی جس میں اب امریکی صدر کے بیان نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران میں دس روز سے جاری احتجاج میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

جس میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 50 کے قریب پہنچ گئی جب کہ 100 سے زائد زخمی ہیں۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

ناروے میں قائم ایرانی ہیومن رائٹس این جی او (IHRNGO) نے دعویٰ کیا ہے کہ مظاہروں کے آغاز سے اب تک کم از کم 45 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 8 بچے بھی شامل ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان مظاہروں میں سیکڑوں افراد زخمی جب کہ دو ہزار سے زائد مظاہرین کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق مظاہرین سے جھڑپوں میں 5 اہلکار ہلاک بھی ہوئے جن میں پاسداران انقلاب کے 2 اہلکار بھی شامل ہیں۔

ایرانی میڈیا نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ مظاہروں میں 950 پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستے بسیج کے 60 اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایرانی سیکیورٹی فورسز مظاہرین کو قتل کرتی رہیں تو امریکا سخت ردِعمل دے سکتا ہے۔

ٹرمپ کی ان دھمکیوں کو رجیم کی تبدیی کے لیے وینزویلا کی طرز پر کی گئی کارروائی کا انتباہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ان بیانات کے فوراً بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے سرکاری ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب میں امریکا اور بالخصوص صدر ٹرمپ کو آڑے ہاتھوں لیا۔

خامنہ ای نے کہا کہ دوسروں کی فکر چھوڑ کر ٹرمپ کو اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔

ایرانی سپریم لیڈر نے یہ لزام بھی لگایا کہ کچھ عناصر امریکی صدر کو خوش کرنے کے لیے عوامی املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ لاکھوں قربانیوں کے خون سے قائم ہوئی ہے اور اسے کمزور کرنے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔

ایران میں حالیہ مظاہروں اور اس میں صدر ٹرمپ کی دھمکی آمیز انٹری نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کردی ہے۔

ایران کے حامیوں کا استدلال ہے کہ ان مظاہروں کے پیچھے در پردہ امریکا ہے جو اس بہانے اور جمہوریت کی آڑ میں رجیم چینج چاہتا ہے جیسا کہ وینزویلا میں کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ایران میں

پڑھیں:

امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔

مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔

Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.

This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP

— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز

متعلقہ مضامین

  • ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
  • ایرانی حملے میں 10 شدید زخمی فوجیوں کو جرمنی کے ہسپتال منتقل کیا گیا، نیویارک ٹائمز
  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی