ایران میں حکومت مخالف احتجاج میں شدت، تہران میں انٹرنیٹ اور فون سروس معطل
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
ایران کے دارالحکومت تہران میں سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کی قیادت میں قائم اسلامی نظام کے خلاف احتجاج میں شدت آ گئی ہے۔
بگڑتی معیشت، مہنگائی میں ہوشربا اضافے اور سیکیورٹی فورسز کی سخت کارروائیوں سے تنگ آ کر ایرانی شہری سڑکوں پر نکل آئے اور مذہبی حکمران نظام کے خلاف نعرے لگائے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں بڑھتی مہنگائی اور احتجاج، حکومت کا الیکٹرونک سبسڈی دینے کا فیصلہ
ایرانی حکومت نے رات کے وقت احتجاج میں تیزی آنے پر ملک بھر میں انٹرنیٹ اور بین الاقوامی ٹیلی فون سروس بند کر دی، جبکہ عدلیہ کے سربراہ اور سیکیورٹی اداروں نے سخت ردعمل کی وارننگ دی۔ مظاہرین کی جانب سے ’آزادی، آزادی‘ کے نعرے لگائے جاتے رہے۔
کچھ مظاہرین نے جلا وطن ولی عہد شہزادہ رضا پہلوی کی جانب سے دی گئی احتجاجی کال پر لبیک کہا۔
Large demonstration in Tehran with people chanting " Death to the dictator ".
— Majid (@Majid25Heyran) January 9, 2026
رضا پہلوی کے والد، ایران کے سابق شاہ، 1979 کے اسلامی انقلاب سے قبل ملک چھوڑ گئے تھے اور شدید علالت کے باعث بعد ازاں انتقال کر گئے تھے۔
مظاہروں میں شاہ کے حق میں نعرے بھی سنائی دیے، جو ماضی میں سزائے موت کا سبب بن سکتے تھے، تاہم آج یہ نعروں میں جھلکتی عوامی بے چینی اور غصے کی علامت بن چکے ہیں۔
’پہلوی واپس آئے گا‘رضا پہلوی نے جمعرات اور جمعہ کو رات 8 بجے احتجاج کی اپیل کی تھی۔ مقررہ وقت پر تہران کے مختلف علاقوں میں نعرے بازی شروع ہو گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق ’آمر مردہ باد‘ اور ’اسلامی جمہوریہ مردہ باد‘ جیسے نعرے لگائے گئے، مواصلاتی نظام کی بندش سے قبل ہزاروں افراد سڑکوں پر موجود تھے۔
مزید پڑھیں: ایران میں احتجاج جاری، انٹرنیٹ سروس میں شدید خلل، متعدد گرفتاریاں
رضا پہلوی نے کہا کہ ایرانی عوام نے آج رات آزادی کا مطالبہ کیا، جواب میں حکومت نے تمام مواصلاتی ذرائع بند کر دیے۔
انہوں نے یورپی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر ایرانی حکومت کو جوابدہ ٹھہرانے کا وعدہ کریں۔
Iran’s capital is like Tokyo: big city & high rent. Thats normal.
The price explosion didn’t come from the Islamic system. It came from a rich insider cartel that pushed fake “liberal” economics, cut backroom deals with foreigners, & hollowed out the economy from inside. Also: https://t.co/I8a4tZJyP3 pic.twitter.com/XfzLNx6GxB
— Tom 8.0 ???????????? (@ThomasTheGent1) January 2, 2026
رضا پہلوی نے کہا کہ احتجاج کے ردعمل کو دیکھتے ہوئے وہ آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
اسرائیل کے لیے ان کی حمایت ماضی میں تنقید کا نشانہ بنتی رہی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ شاہ کے حق میں نعرے رضا پہلوی کی حمایت ہیں یا 1979ء سے پہلے کے دور کی یاد کا اظہار۔
ایران بھر میں احتجاج پھیل گیاجمعرات کو ایران کے مختلف شہروں اور دیہی علاقوں میں احتجاج جاری رہا، کئی مارکیٹیں اور بازار مظاہرین سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر بند رہے۔
ان احتجاجوں نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور سول حکومت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
مزید پڑھیں: پرامن مظاہرین کیخلاف کارروائی نہ کریں، ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی سیکیورٹی فورسز کو ہدایت
انٹرنیٹ کمپنی کلاؤڈ فلیئر اور نیٹ بلاکس نے انٹرنیٹ بندش کی تصدیق کرتے ہوئے اسے حکومتی مداخلت قرار دیا۔
اگرچہ احتجاج تاحال کسی ایک قیادت کے تحت منظم نہیں، لیکن یہ واضح نہیں کہ رضا پہلوی کی اپیل مستقبل میں کس حد تک اثر انداز ہو گی۔
احتجاج کی وجوہاتیہ موجودہ احتجاج 3 برسوں میں سب سے بڑا عوامی ردعمل ہے، جس کا آغاز گزشتہ ماہ تہران کے گرینڈ بازار سے ہوا، جہاں تاجروں نے کرنسی کی قدر میں تیز گراوٹ پر احتجاج کیا۔
بدانتظامی، مغربی پابندیوں، سیاسی و سماجی آزادیوں پر قدغن اور بے قابو مہنگائی نے عوامی غصے کو بھڑکا دیا۔
WATCH ???? Massive protest in Tehran against Iran's government pic.twitter.com/QmxSEgMLKG
— Insider Paper (@TheInsiderPaper) January 9, 2026
ایران کے سرکاری شماریاتی مرکز کے مطابق دسمبر میں مہنگائی کی شرح 52 فیصد رہی۔
حکومت نے معاشی مشکلات کا اعتراف کیا ہے مگر احتجاج کا ذمہ دار غیر ملکی طاقتوں سے منسلک نیٹ ورکس کو ٹھہرایا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کیخلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا، آرمی چیف کا دشمنوں کو سخت انتباہ
صدر مسعود پزشکیان نے مظاہرین کے ’جائز مطالبات‘ تسلیم کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی اور معاشی بہتری کے اقدامات پر زور دیا،
تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ ریال کی قدر میں شدید کمی نے حکومت کو محدود کر دیا ہے، جہاں ایک امریکی ڈالر تقریباً 14 لاکھ ریال تک جا پہنچا ہے۔
حکومتی ردعمل اور ٹرمپ کی وارننگایرانی حکام نے احتجاج کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے سیکیورٹی سخت کر دی ہے، سخت گیر اخبار ’کیہان‘ نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مظاہرین کی شناخت کے لیے ڈرونز استعمال کیے جائیں گے۔
مختلف شہروں میں سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران کو سنگین بحرانوں کا سامنا: مغربی میڈیا کا آیت اللہ خامنہ ای کے متبادل منصوبے کا انکشاف
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے پرامن مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا تو امریکا مداخلت کرے گا۔
تاہم انہوں نے رضا پہلوی سے ملاقات کے سوال پر کہا کہ اس وقت ایسا کرنا مناسب نہیں اور یہ دیکھنا چاہیے کہ آگے کون ابھر کر سامنے آتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آیت اللہ احتجاج امریکا انٹرنیٹ ایران تہران ڈالر ڈرونز رضا پہلوی سپریم لیڈر سیکیورٹی شماریاتی مرکز علی خامنہ ای کیہان گرینڈ بازار مظاہرے مہنگائی مواصلاتی نظام
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آیت اللہ امریکا انٹرنیٹ ایران تہران ڈالر رضا پہلوی سپریم لیڈر سیکیورٹی شماریاتی مرکز علی خامنہ ای مظاہرے مہنگائی مواصلاتی نظام مزید پڑھیں رضا پہلوی ایران کے خامنہ ای
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔