حضرت بی بی فاطمہ الزہراؑ کربلا کا مقدمہ بنیں، جس کے بعد اسلام کی نشاط ثانیہ شروع ہوئی،علامہ ریاض نجفی
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
جامع علی مسجد حوزہ علمیہ جامعتہ المنتظر میں خطاب کرتے ہوئے وفاق المدارس الشعہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ حضرت سیدہ فاطمہ الزہرا ؑوہ واحد خاتون ہیں جن کے استقبال کے لیے پیغمبر جیسے باپ تعظیم میں کھڑے ہو جاتے تھے، پیغمبر کا کھڑا ہونا خاص فاطمہ ؑکے لئے تھا، ہمارے لیے اپنی بیٹیوں کی تعظیم کے لیے کھڑے ہونا ضروری نہیں، حضرت خدیجہ الکبریٰ کا بھی قرآن مجید میں قرائن کے ساتھ تذکرہ موجود ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر علامہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے کہا ہے کہ حضرت حوا کا ہر اس جگہ قرآن میں تذکرہ ہوا ہے، جہاں حضرت آدم علیہ السلام کا ہوا، وہ بڑی باعظمت خاتون تھیں۔ اگر حوا نہ ہوتیں تو آج ہم میں سے کوئی بھی نہ ہوتا۔ جامع علی مسجد حوزہ علمیہ جامعتہ المنتظر ماڈل ٹاون میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حضرت سیدہ فاطمہ الزہرا ؑوہ واحد خاتون ہیں جن کے استقبال کے لیے پیغمبر جیسے باپ تعظیم میں کھڑے ہو جاتے تھے اور یہ کھڑا ہونا اتنا خاص تھا کہ ہمارے لیے اس سنت پر عمل کرنا ضروری نہیں کہ ہم اپنی بیٹیوں کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوں بلکہ یہ خاص جناب سیدہ کے لیے ہے، آیت تطہیر کے نزول کے بعد مسلسل چھ مہینے پاک پیغمبر حضرت فاطمہ ؑ کے دروازے پر رک کر آیت تطہیر کی تلاوت فرماتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ بی بی زہرا کی عظمت اس وجہ سے ہے کہ ٓاپ مقدمہ بنیں کربلا کیلئے، اسلام کربلا کے بعد زندہ ہوا یعنی اس کی نشاط ثانیہ کربلا کے بعد شروع ہوئی ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جناب آسیہ کا بھی قرآن مجید میں نام نہیں آیا، لیکن تذکرہ بہت ہوا ہے چاہے وہ فرعون کے گھر میں تھیں لیکن اتنی باعظمت تھیں کہ حضرت موسیٰ کی پرورش جناب آسیہ نے کی۔ حضرت مریم واحد خاتون ہیں جن کا قرآن مجید میں نام کے ساتھ ذکر ہوا ہے، اپ بھی اتنی باعظمت ہیں کہ ٓاپ کے بیٹے نے پیدائش کے چند دن بعد دعویٰ نبوت کر دیا۔ حضرت خدیجہ الکبریٰ کا بھی قرآن مجید میں قرائن کے ساتھ تذکرہ موجود ہے ،اس بات پر بھی سب متفق ہیں کہ خدیجہ اس وقت کی طاہرہ خاتون تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔