صومالی لینڈ تنازع پر او آئی سی اجلاس، وزیر خارجہ شرکت کیلئے جدہ پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
جدہ (نیوز ڈیسک) صومالی لینڈ تنازع پر او آئی سی اجلاس میں شرکت کیلئے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سعودی عرب پہنچ گئے۔
دفتر خارجہ کے مطابق سعودی عرب پہنچنے پر پاکستان کے سفیر احمد فاروق اور قونصل جنرل مصطفیٰ ربانی نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا استقبال کیا، اسحاق ڈار آج شام او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس میں شرکت کریں گے۔
جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی او آئی سی رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی ہوں گی، اس کے علاوہ وہ جدہ میں پاکستانی قونصل خانے کی نئی عمارت کا افتتاح بھی کریں گے۔
دفتر خارجہ کے مطابق او آئی سی کا یہ ہنگامی اجلاس اسرائیل کی طرف سے صومالی لینڈ کو خود مختار ملک تسلیم کرنے کے اعلان اور اس کے بعد صومالیہ میں ہونے والی تیز تر اشتعال انگیز تبدیلیوں کے تناظر میں ہو رہا ہے، او آئی سی اسرائیل کے اس اعلان کو صومالیہ کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دے چکی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اس اجلاس میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار پاکستان کی طرف سے صومالیہ کی عالمی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر اس کے اتحاد اور سلامتی کی بھرپور حمایت کا اعادہ کریں گے اور اجلاس میں پاکستان کا نقطہ نظر پیش کریں گے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار رکن ممالک کے ہم منصبوں کے ساتھ علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی وسیع تر تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ دوطرفہ تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال بھی کریں گے۔
خیال رہے کہ صومالی لینڈ صومالیہ کے شمال مغرب میں وہ خطہ ہے جس نے صومالیہ کی مرکزی حکومت کے خاتمہ کے بعد 1991ء میں اپنی آزادی کا اعلان کر دیا تھا، اب اس علاقے کی اپنی انتظامیہ، اپنا سکیورٹی نظام ہے اور یہاں وقفے وقفے سے الیکشن ہوتے رہتے ہیں، تاہم اسے ابھی تک اقوام متحدہ یا کسی بڑی عالمی تنظیم نے خود مختار ملک کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
اسرائیل کی طرف سے حال ہی میں صومالی لینڈ کو خود مختار ملک تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد نہ صرف صومالیہ بلکہ مسلم دنیا میں بھی بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے، پاکستان عالمی فورمز پر صومالیہ کی یکجہتی اور خود مختاری کی حمایت کرتا آیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وزیر خارجہ اسحاق ڈار صومالی لینڈ صومالیہ کی او ا ئی سی اجلاس میں کریں گے
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔