مقبوضہ جموں و کشمیر: سانحہ کٹھوعہ، انصاف کی ناکامی اور ریاستی بے حسی کی المناک داستان
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
10 جنوری 2018 کو ہونے والا سانحہ کٹھوعہ تاریخ کا ناقابلِ فراموش واقعہ ہے۔
سانحہ کٹھوعہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کیساتھ ہونے والے غیر انسانی سلوک اور خواتین کی عصمت دری کا دکھ بھرا سانحہ ہے۔ 10 جنوری 2018 کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع کٹھوعہ سے لاپتہ ہونے والی 8 سالہ بچی بانو کی لاش 17 جنوری کو جنگلات سے برآمد ہوئی۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ اور سرکاری تحقیقات کے مطابق 8 سالہ معصوم بانو شدید جنسی تشدد اور قتل کا نشانہ بنی۔ بے حسی اور سفاکیت کی انتہا یہ تھی کہ عدالت نے جارج شیٹ کو روکنے کی کوشش کی اور بھارتی سیاسی شخصیات نے کھلے عام ملوث افراد کا دفاع کیا۔
دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے بھارتی عدالت نے یہ مقدمہ پٹھان کوٹ منتقل کر دیا گیا۔ کٹھوعہ کیس مسلسل ناانصافی کی علامت بنا رہا، جہاں انصاف میں تاخیر، دانستہ تنازعات اور رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔
عدالتی سماعت کے پورے عمل میں قانونی پیچیدگیاں، عوامی احتجاج اور سیاسی مداخلت کی شکایات سامنے آتی رہیں۔ عدالتی بے حسی اور بھارتی سیاستدانوں کی ہٹ دھرمی کے باعث انصاف کا گلا گھونٹ دیا گیا۔
سانحہ کٹھوعہ اس امر کا عکاس ہے کہ جب کمزور اور اقلیتی طبقات کو مؤثر ریاستی تحفظ حاصل نہ ہو تو اجتماعی عدم تحفظ اور ریاستی بے حسی کی علامت بن جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سانحہ کٹھوعہ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔