بلوچستان حکومت نے احتجاج کرنیوالے 38 سرکاری ملازمین کو معطل کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
اعلامیہ کے مطابق ملازمین کی ہڑتال میں شرکت، دفاتر کی تالہ بندی کرنے پر بیڈا ایکٹ کے تحت محکمہ کالجز کے 38 اسسٹنٹ پروفیسرز اور لیکچرز کو تین ماہ کیلئے معطل کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت بلوچستان نے احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف مزید کارروائیاں کرتے ہوئے 38 اسسٹنٹ پروفیسرز اور لیکچررز کو تین ماہ کے لئے معطل کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان گرینڈ الائنس کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں صوبے بھر میں احتجاج جاری ہے۔ حکومت نے پہلے گرینڈ الائنس کے دو رہنماؤں کو معطل کیا، بعد ازاں 38 پروفیسرز اور لیکچررز کو بھی تین ماہ کے لئے معطل کیا گیا ہے۔ جن میں 6 خواتین بھی شامل ہیں۔ چیف سیکرٹری بلوچستان کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ملازمین کی ہڑتال میں شرکت، دفاتر کی تالہ بندی کرنے پر بیڈا ایکٹ کے تحت محکمہ کالجز کے 38 اسسٹنٹ پروفیسرز اور لیکچرز کو تین ماہ کیلئے معطل کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پروفیسرز اور معطل کیا تین ماہ
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔