Juraat:
2026-06-02@23:31:55 GMT

ہاکس بے چوکی انچارج صابر کی سرپرستی میں منظم جرائم کاگٹھ جوڑ

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

ہاکس بے چوکی انچارج صابر کی سرپرستی میں منظم جرائم کاگٹھ جوڑ

گٹکا ماوا کی فروخت، فحاشی نائٹ ہٹ پارٹی اور ایرانی پیٹرول ڈیزل کی سپلائی کا کام جاری
لاکھوں وصولی کیلئے کانسٹیبل اکرم، شعیب، تھانہ بیٹر کامران اور پرائیویٹ ہٹ بیٹر جاوید شامل

(رپورٹ ایم جے کے)تھانہ ماڑی پور’ ہاکس بے چوکی انچارج صابر کی سرپرستی میں منظم جرائم جاری، گٹکا ماوا کی فروخت، فحاشی نائٹ ہٹ پارٹی اور ایرانی پیٹرول ڈیزل کی سپلائی کا کام جاری، غیرقانونی کاموں میں لاکھوں روپے وصولی کے لیے کانسٹیبل اکرم، شعیب، تھانہ بیٹر کامران اور پرائیویٹ ہٹ بیٹر جاوید بھی شامل۔ علاقہ باوثوق ذرائع کے مطابق تھانہ ماڑی پور ہاکس بے چوکی پر پچھلے پانچ سال سے اے ایس آء صابر کا چوکی انچارج کی سیٹ پر قبضہ قائم ہے، گٹکا و ماوا کی سپلائی اور فروخت، ہٹ پر رکھے جنریٹر میں ایرانی ڈیزل و پٹرول کی سپلائی اور فروخت جیسے غیرقانونی کام جاری ہیں، اے ایس آئی صابر اپنے خاص کارندوں پولیس کانسٹیبل تھانہ ماڑی پور اکرم، شعیب، تھانہ بیٹر کانسٹیبل کامران اور پرائیویٹ ہٹ بیٹر جاوید کھرد کے ذریعے تمام غیرقانونی کاموں کی مد میں لاکھوں روپے ہفتہ بھتہ وصولی کروا رہا ہے، اس کے علاوہ ہاکس بے پر موجود ہٹ پر فحاشی نائٹ پارٹی، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر چلنے والے پروگرامز کی ہاکس بے پر شوٹنگ کی مد میں پرائیویٹ ہٹ بیٹر جاوید کھرد رقم وصول کر کے تھانہ ماڑی پور بیٹر کانسٹیبل کامران کو دیتا ہے جو ایک حصہ ماڑی پور چوکی انچارج اے ایس آئی صابر کو لاکھوں، ہزاروں روپے پہنچاتا ہے اور دوسرا حصہ تھانہ ماڑی پور میں پہنچاتا ہے جبکہ اے ایس آئی صابر کے خاص کارندے پولیس کانسٹیبل تھانہ ماڑی پور اکرم اور شعیب کی جانب سے سیر و تفرح کے لیے آئی فیملیز سے نکاح نامے کے نام پر 1000 اور 500 روپے لیکر چھوڑنے کا غیرقانونی کام بھی جاری ہے نہ دینے پر ان فیملیوں کو پریشان بھی کرنے کا انکاشاف ہے، ذرائع نے مزید بتایا کہ اے ایس آئی صابر پچھلے پانچ سال سے ہاکس بے چوکی انچارج رہنے کی وجہ سے مالا مال ہوگیا ہے اس دوران اس نے 2025 کی آلٹو کار استعمال میں رکھی ہے اس سے قبل اس کے پاس سفید کلر کی کرولا کار تھی اور کء گھر بھی خرید لیے ہیں اسی ہاکس بے کے ایریے میں جسے اس نے کرا? پر دے رکھے ہیں، اے ایس آئی صابر تھانہ ماڑی پور ہاکس بے چوکی پر ہفتے میں صرف تین دن آتا ہے جمعہ، ہفتہ اور اتوار وہ بھی صرف ہفتہ لاکھوں روپے بھتے کے پیسے لینے، باقی تمام کام اس کے خاص کارندے پولیس کانسٹیبل تھانہ ماڑی پور اکرم، شعیب، تھانہ بیٹر کانسٹیبل کامران اور پرائیویٹ ہٹ بیٹر جاوید کھرد سنبھالتے ہیں، علاقہ ماڑی پور عوام اور ہاکس بے پر آئی ہوئی فیملی نے کئی بار اے ایس آئی صابر اور اس کے خاص کارندوں اکرم، شعیب، تھانہ بیٹر کامران اور جاوید کھرد کے خلاف ماڑی پور تھانے میں شکایات درج کروائیں مگر تھانہ ماڑی پور ایس ایچ او کی جانب سے اپنے پیٹی بھائیوں کے خلاف کوء کارروائی نہ کرسکے، علاقہ مکین ماڑی پور نے ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی سے مطالبہ کیا ہے کہ ہاکس بے چوکی انچارج صابر اور تھانہ ماڑی پور کانسٹیبل اکرم، کانسٹیبل شعیب، تھانہ ماڑی پور بیٹر کانسٹیبل کامران اور پرائیویٹ ہٹ بیٹر جاوید کھرد کے خلاف سخت سے سخت محکمہ جاتی کارروائی کی جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: بیٹر کانسٹیبل کامران اے ایس ا ئی صابر غیرقانونی کام تھانہ بیٹر کی سپلائی

پڑھیں:

کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد

بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا

ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔

سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی

ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان

متعلقہ مضامین