ہاکس بے چوکی انچارج صابر کی سرپرستی میں منظم جرائم کاگٹھ جوڑ
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
گٹکا ماوا کی فروخت، فحاشی نائٹ ہٹ پارٹی اور ایرانی پیٹرول ڈیزل کی سپلائی کا کام جاری
لاکھوں وصولی کیلئے کانسٹیبل اکرم، شعیب، تھانہ بیٹر کامران اور پرائیویٹ ہٹ بیٹر جاوید شامل
(رپورٹ ایم جے کے)تھانہ ماڑی پور’ ہاکس بے چوکی انچارج صابر کی سرپرستی میں منظم جرائم جاری، گٹکا ماوا کی فروخت، فحاشی نائٹ ہٹ پارٹی اور ایرانی پیٹرول ڈیزل کی سپلائی کا کام جاری، غیرقانونی کاموں میں لاکھوں روپے وصولی کے لیے کانسٹیبل اکرم، شعیب، تھانہ بیٹر کامران اور پرائیویٹ ہٹ بیٹر جاوید بھی شامل۔ علاقہ باوثوق ذرائع کے مطابق تھانہ ماڑی پور ہاکس بے چوکی پر پچھلے پانچ سال سے اے ایس آء صابر کا چوکی انچارج کی سیٹ پر قبضہ قائم ہے، گٹکا و ماوا کی سپلائی اور فروخت، ہٹ پر رکھے جنریٹر میں ایرانی ڈیزل و پٹرول کی سپلائی اور فروخت جیسے غیرقانونی کام جاری ہیں، اے ایس آئی صابر اپنے خاص کارندوں پولیس کانسٹیبل تھانہ ماڑی پور اکرم، شعیب، تھانہ بیٹر کانسٹیبل کامران اور پرائیویٹ ہٹ بیٹر جاوید کھرد کے ذریعے تمام غیرقانونی کاموں کی مد میں لاکھوں روپے ہفتہ بھتہ وصولی کروا رہا ہے، اس کے علاوہ ہاکس بے پر موجود ہٹ پر فحاشی نائٹ پارٹی، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر چلنے والے پروگرامز کی ہاکس بے پر شوٹنگ کی مد میں پرائیویٹ ہٹ بیٹر جاوید کھرد رقم وصول کر کے تھانہ ماڑی پور بیٹر کانسٹیبل کامران کو دیتا ہے جو ایک حصہ ماڑی پور چوکی انچارج اے ایس آئی صابر کو لاکھوں، ہزاروں روپے پہنچاتا ہے اور دوسرا حصہ تھانہ ماڑی پور میں پہنچاتا ہے جبکہ اے ایس آئی صابر کے خاص کارندے پولیس کانسٹیبل تھانہ ماڑی پور اکرم اور شعیب کی جانب سے سیر و تفرح کے لیے آئی فیملیز سے نکاح نامے کے نام پر 1000 اور 500 روپے لیکر چھوڑنے کا غیرقانونی کام بھی جاری ہے نہ دینے پر ان فیملیوں کو پریشان بھی کرنے کا انکاشاف ہے، ذرائع نے مزید بتایا کہ اے ایس آئی صابر پچھلے پانچ سال سے ہاکس بے چوکی انچارج رہنے کی وجہ سے مالا مال ہوگیا ہے اس دوران اس نے 2025 کی آلٹو کار استعمال میں رکھی ہے اس سے قبل اس کے پاس سفید کلر کی کرولا کار تھی اور کء گھر بھی خرید لیے ہیں اسی ہاکس بے کے ایریے میں جسے اس نے کرا? پر دے رکھے ہیں، اے ایس آئی صابر تھانہ ماڑی پور ہاکس بے چوکی پر ہفتے میں صرف تین دن آتا ہے جمعہ، ہفتہ اور اتوار وہ بھی صرف ہفتہ لاکھوں روپے بھتے کے پیسے لینے، باقی تمام کام اس کے خاص کارندے پولیس کانسٹیبل تھانہ ماڑی پور اکرم، شعیب، تھانہ بیٹر کانسٹیبل کامران اور پرائیویٹ ہٹ بیٹر جاوید کھرد سنبھالتے ہیں، علاقہ ماڑی پور عوام اور ہاکس بے پر آئی ہوئی فیملی نے کئی بار اے ایس آئی صابر اور اس کے خاص کارندوں اکرم، شعیب، تھانہ بیٹر کامران اور جاوید کھرد کے خلاف ماڑی پور تھانے میں شکایات درج کروائیں مگر تھانہ ماڑی پور ایس ایچ او کی جانب سے اپنے پیٹی بھائیوں کے خلاف کوء کارروائی نہ کرسکے، علاقہ مکین ماڑی پور نے ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی سے مطالبہ کیا ہے کہ ہاکس بے چوکی انچارج صابر اور تھانہ ماڑی پور کانسٹیبل اکرم، کانسٹیبل شعیب، تھانہ ماڑی پور بیٹر کانسٹیبل کامران اور پرائیویٹ ہٹ بیٹر جاوید کھرد کے خلاف سخت سے سخت محکمہ جاتی کارروائی کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: بیٹر کانسٹیبل کامران اے ایس ا ئی صابر غیرقانونی کام تھانہ بیٹر کی سپلائی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔