بلڈنگ افسر اور ‘پیکیج مافیا’پر سنگین الزامات، اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف شیخ ملوث
بلاک 6پلاٹ ،E61اور A1پر خلاف ضابطہ تعمیرات دن کے اجالے میں جاری

ضلع ایسٹ میں واقع پی ای سی ایچ ایس میں رہائشی پلاٹوں پر غیرقانونی کمرشل تعمیرات کا سلسلہ بڑے پیمانے پر جاری ہے ، جس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف شیخ اور نام نہاد ‘صحافتی پیکیج مافیا’کی ملی بھگت کے گمبھیر الزامات سامنے آئے ہیں۔حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، سوسائٹی کے قوانین اور منصوبہ بندی کے اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے متعدد مقامات پر رہائشی یونٹس کو دکانیں، دفاتر اور دیگر تجارتی اڈوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے ، جس سے نہ صرف علاقے کی رہائشی نوعیت مسخ ہو رہی ہے بلکہ بنیادی سہولیات پر بے جا دباؤ بھی پڑ رہا ہے ۔رپورٹ میں الزام ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسر آصف شیخ اس غیرقانونی دھندے میں ملوث افراد کے ساتھ ملی بھگت رکھتے ہیں اور شکایات کو دباتے ہوئے قواعد کی پامالی پر پردہ ڈالنے کا کام کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ، ایک ‘صحافتی پیکیج مافیا’ بھی متحرک بتائی جاتی ہے ، جو مالی مفاد کے عوض اس تعمیراتی لاقانونیت کے خلاف میڈیا میں خبریں چلنے یا تحقیقات ہونے سے روکتا ہے ۔’جرأت’سروے ٹیم نے اس معاملے کی خود تحقیقات کی ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوسائٹی کے کئی حصوں میں رہائشی پلاٹوں کو بلا اجازت تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ٹیم کے مطابق، انتظامیہ کو متعدد بار تحریری شکایات دی جا چکی ہیں، لیکن بلڈنگ افسران کی مبینہ سازش کے باعث کوئی کارروائی نظر نہیں آتی۔زمینی حقائق اور سروے کے دوران حاصل کی جانے والی زیر نظر تصاویر میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ بلاک 6 کے پلاٹ نمبر E61 اور A1 پر خلاف معمول تعمیرات دن کے اجالے میں جاری ہیں ،سوسائٹی کے رہائشیوں کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے میں فوری شفاف تحقیقات کروائی جائیں اور تمام ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی اقدامات اٹھائے جائیں۔ نیز، شہر بھر کی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف جامع مہم چلانے کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں کے جائز رہائشی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود