ملک ریاض دوبارہ ریڈار پر آگئے،ایف آئی اے کابحریہ ٹاؤن کراچی کے مرکزی دفتر پر چھاپہ، ریکارڈ ضبط
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
بحریہ ٹاؤن اور کراچی میں زمینوں پر مبینہ قبضوں میں ملوث سندھ کے طاقتور سسٹم سے وابستہ بااثر افراد کیخلاف تحقیقات ایکبار پھر بحال کر دی ،چھاپہ تقریباً 6 سے 8 گھنٹے تک جاری رہا، ذرائع
کارروائی کے دوران کسی شخص کو باہر جانے کی اجازت نہیں دی ، کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی ، ضبط شدہ ریکارڈ کی باریک بینی سے جانچ کے بعد کارروائی کا دائرہ وسیع کیے جانے کا امکان ،حکام
بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض حسین اور کراچی میں زمینوں پر مبینہ قبضوں میں ملوث سندھ کے طاقتور سسٹم سے وابستہ بااثر افراد کے خلاف تحقیقات ایک بار پھر بحال کر دی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں ایف آئی اے اینٹی منی لانڈرنگ سیل کراچی نے جمعرات کو بحریہ ٹاؤن کراچی کے مرکزی دفتر پر چھاپہ مار کر اہم اور حساس ریکارڈ تحویل میں لے لیا۔ ذرائع کے مطابق چھاپے کے دوران بحریہ ٹاؤن کراچی کا مکمل لے آؤٹ پلان، زمینوں کی الاٹمنٹ، ٹرانسفرز اور دیگر کلیدی دستاویزات تحویل میں لے لی گئیں، جنہیں آئندہ قانونی کارروائی کے لیے فیصلہ کن شواہد قرار دیا جا رہا ہے۔ اس ہائی پروفائل کارروائی کے لیے ایف آئی اے کراچی کے تمام سرکلز سے افسران اور اہلکاروں کو طلب کیا گیا تھا، جن میں خواتین افسران و اہلکار بھی شامل تھیں۔ کارروائی کے دوران دفتر میں موجود کسی بھی شخص کو باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی، تاہم تاحال کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ چھاپہ تقریباً 6 سے 8 گھنٹے تک جاری رہا، جس دوران ایف آئی اے کی ٹیم نے نوٹسز کے ذریعے طلب کیے گئے تمام ریکارڈ کو باقاعدہ قبضے میں لیا۔ یہ ریکارڈ گزشتہ برس شروع ہونے والی انکوائریوں کا حصہ تھا، جس میں بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ کی جانب سے مبینہ طور پر عدم تعاون سامنے آیا تھا۔ یاد رہے کہ ملک ریاض حسین کے خلاف ایف آئی اے میں گزشتہ سال متعدد انکوائریوں کا آغاز کیا گیا تھا، جن میں منی لانڈرنگ، زمینوں پر غیرقانونی قبضوں اور سرکاری و نجی اداروں سے روابط کے الزامات شامل ہیں۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق ضبط شدہ ریکارڈ کی باریک بینی سے جانچ کے بعد مزید چھاپوں، طلبیوں اور ممکنہ قانونی کارروائی کا دائرہ وسیع کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے بعد سندھ کے کرپٹ سسٹم سے منسلک کئی بااثر نام ایک بار پھر تحقیقاتی دائرے میں آ سکتے ہیں، جبکہ کیس میں آنے والے دنوں میں مزید چونکا دینے والی پیش رفت متوقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کارروائی کے بحریہ ٹاو ن ایف ا ئی اے
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔