صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا میں فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے شمالی وزیرستان اور کرم میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں فتنہ الخوارج کے 11 دہشت گردوں کی ہلاکت پر سکیورٹی اہلکاروں اور پولیس کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی۔

ایوانِ صدر کے میڈیا وِنگ سے جاری بیان کے مطابق صدرِ مملکت نے کہا کہ قوم کے جان و مال کے تحفظ کے لئے سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار قابل تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی۔

وزیراعظم  شہباز شریف نے  سیکیورٹی فورسز کے افسران و جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا، وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے دہشتگردی کے عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افواج پاکستان اور پولیس کے جوان شب و روز ملک دشمن عناصر کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے بہادر و فرض شناس افسروں اور جوانوں کے ہوتے ہوئے دشمن پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرآت نہیں کر سکتا۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ ان سمیت پوری قوم سکیورٹی فورسز کے ارض وطن کی حفاظت کے غیر متزلزل عزم میں ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے سیکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا  اور کہا کہ  فتنہ الخوارج کے ناپاک عزائم خاک میں ملانے پر سیکورٹی فورسز کی بروقت کارروائیوں قابل ستائش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں خوارجیوں کے خاتمے کیلئے کامیاب آپریشنز سکیورٹی فورسز کو   سلام پیش کرتے ہیں،  خیبر پختونخوا میں فتنہ الخوارج کے خاتمے کیلئے سکیورٹی فورسز پرعزم ہیں،  کے پی کے میں فتنہ الخوارج کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی،  قوم کی حمایت سے خوارجیوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 2 کامیاب کارروائیاں کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو مبارکباد دی اور  11 دہشتگردوں کو ہلاک کرنے کو سراہا۔

ترجمان کے مطابق انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے “عزمِ استحکام” آپریشن کامیابی سے جاری ہے، ہماری فورسز ملک دشمن عناصر کو ان کے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گی، سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میں فتنہ الخوارج فتنہ الخوارج کے انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز سکیورٹی فورسز کے خلاف

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار