پختونخوا میں فورسز کے آپریشنز؛ فتنۃ الخوارج کے بھارتی اسپانسرڈ 11 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی: خیبر پختونخوا میں سیکورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جاری مہم کے دوران اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے بھارتی حمایت یافتہ فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 11 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق یہ کارروائیاں 8 جنوری 2026 کو صوبے کے مختلف حساس علاقوں میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئیں، جن کا مقصد غیر ملکی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد عناصر کے نیٹ ورک کو ختم کرنا تھا۔ سیکورٹی اداروں کی دونوں کارروائیاں منظم اور مربوط حکمت عملی کے تحت انجام دی گئیں، جن میں دشمن عناصر کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق پہلی کارروائی ضلع شمالی وزیرستان میں کی گئی، جہاں دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع موصول ہونے پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن شروع کیا گیا۔ سیکورٹی فورسز نے علاقے میں خوارج کے ٹھکانے کو گھیرے میں لے کر پیشہ ورانہ انداز میں کارروائی کی۔
آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 6 دہشت گرد مارے گئے۔ فورسز نے بروقت اور مؤثر ردعمل دیتے ہوئے ممکنہ نقصان سے بچاؤ کو یقینی بنایا۔
دوسری کارروائی ضلع کرم میں عمل میں لائی گئی، جہاں پولیس اور سیکورٹی فورسز نے مشترکہ طور پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ اس کارروائی کے دوران بھی دہشت گردوں کی جانب سے مزاحمت کی گئی، تاہم سیکورٹی اہلکاروں کی پیشہ ورانہ مہارت کے باعث فائرنگ کے تبادلے میں مزید 5 خوارج کو ہلاک کر دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک ہونے والے بھارتی حمایت یافتہ خوارج کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔ دہشت گرد سیکورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور معصوم شہریوں کے خلاف ٹارگٹ کلنگ سمیت متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔
ترجمان پاک فوج کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ علاقے میں کسی بھی ممکنہ بھارتی اسپانسرڈ خارجی کی موجودگی کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشنز بدستور جاری ہیں۔ سیکورٹی فورسز اس عزم کے ساتھ سرگرم عمل ہیں کہ دہشت گردوں کے کسی بھی محفوظ ٹھکانے کو باقی نہ رہنے دیا جائے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظور شدہ حکمت عملی ’’عزمِ استحکام‘‘ کے وژن کے مطابق سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی انسداد دہشت گردی مہم پوری قوت کے ساتھ جاری رکھیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیکورٹی فورسز فورسز نے کے مطابق
پڑھیں:
نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔
پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟
پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔
بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔