سندھ میں پرامن احتجاج کو پیپلزپارٹی کی حمایت، کاروباری سرگرمیوں کے تحفظ کا وعدہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
پیپلزپارٹی کے رہنما ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ پارٹی جمہوری طور پر کسی پرامن سرگرمی کی مخالفت نہیں کرے گی اور پی ٹی آئی کے احتجاج کی صورت میں بھی کاروباری اور معاشی سرگرمیوں کو نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: نہریں بنانا شروع کیں تو حکومت سے الگ ہوجائیں گے، ناصر حسین شاہ
کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے واضح کیا کہ اگر پی ٹی آئی نے کاروبار بند کرنے یا روڈ بلاک کرنے کی کوشش کی تو قانون حرکت میں آئے گا۔ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی حیدرآباد میں موجود ہیں اور انہیں ان کے عہدے کے مطابق پروٹوکول دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی ہمیشہ مہمان نواز رہی ہے اور پی ٹی آئی کے احتجاج کو پرامن طور پر چلانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی سے کہا گیا ہے کہ سڑکوں پر جلسے جلوس نہ ہوں اور پارٹی کی جانب سے یہ بات سمجھادی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: کیا وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی کرسی خطرے میں پڑ گئی؟
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی کہا کہ پی ٹی آئی کی پرامن تحریک کی حمایت کی جائے گی اور بلاول بھٹو کی خصوصی ہدایت پر انہیں سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی پیپلزپارٹی ناصر حسین شاہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی پیپلزپارٹی ناصر حسین شاہ ناصر حسین شاہ پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
فائل فوٹوسندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں، طوفان اور بارش ہوئی ہے جس سے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوگئی۔
خیبرپختونخوا میں مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سندھ کے علاقے تھرپارکر میں بارش، سکھر میں ژالہ باری، لاڑکانہ، حیدرآباد، مٹیاری، ہالہ، نیو سعیدآباد، شکارپور اور کندھ کوٹ میں مٹی کا طوفان آیا ہے۔
اسلام آباد، لاہور، جہلم، سرگودھا، گجرات، رحیم یار خان، چنیوٹ سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بارش ہوئی۔
تیز ہوا کے باعث لوئر کرم میں بجلی کی مین لائن کا ٹاور گر گیا، پاراچنار اور اس کے ملحقہ علاقوں اور پاک افغان سرحدی دیہات کی بجلی بند ہوگئی۔