برمنگھم میں آسمان گلابی ہوگیا، لوگ خوفزدہ، وجہ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
برطانیہ کے شہر برمنگھم میں اُس وقت خوف اور تجسس کی فضا پیدا ہو گئی جب رات گئے آسمان اچانک گہرے گلابی اور سرخی مائل رنگ میں ڈھل گیا۔ اس غیر معمولی منظر نے شہریوں کو حیران بھی کیا اور پریشان بھی، جبکہ سوشل میڈیا پر سوالات اور قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب شہر شدید برف باری کی زد میں تھا۔ خراب موسمی حالات کے باعث آمدورفت بری طرح متاثر ہوئی، سڑکوں پر مشکلات بڑھ گئیں اور کئی سہولیات عارضی طور پر معطل کرنا پڑیں۔ انہی حالات کے دوران آسمان کا یہ غیر فطری رنگ لوگوں کے لیے مزید خوف کا باعث بن گیا۔
برمنگھم کے رہائشیوں نے فوراً موبائل فونز کے ذریعے تصاویر اور ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کرنا شروع کردیں۔ ان مناظر میں شمالی لندن کے قریب واقع اس شہر کے آسمان پر چھایا گلابی رنگ واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا، جس نے دیکھنے والوں کو چونکا دیا۔
ابتدا میں شہریوں کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ شاید یہ منظر اس برفانی طوفان یا کسی قدرتی آفت سے جڑا ہو، تاہم جلد ہی ماہرین اور میڈیا رپورٹس نے اس راز سے پردہ اٹھا دیا۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ آسمان کا یہ رنگ کسی قدرتی مظہر کا نتیجہ نہیں بلکہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی روشنیوں کا اثر تھا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مختلف تصاویر کے جائزے سے پتا چلا کہ یہ گلابی روشنی صرف برمنگھم کے چند مخصوص علاقوں تک محدود تھی اور برطانیہ کے کسی دوسرے شہر میں ایسا منظر دیکھنے میں نہیں آیا۔ بعد ازاں برطانوی اخبار ’’میٹرو‘‘ کی رپورٹ نے اس پراسرار منظر کی اصل وجہ واضح کر دی۔
اخبار کے مطابق برمنگھم سٹی فٹبال کلب کے اسٹیڈیم سے نکلنے والی طاقتور ایل ای ڈی لائٹس اس رنگ کا سبب بنیں۔ شدید برف باری اور گھنے بادلوں میں موجود ذرات نے ان روشنیوں کو بکھیر دیا، جس کے نتیجے میں یہ گلابی روشنی پورے آسمان پر پھیلتی ہوئی نظر آنے لگی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسٹیڈیم میں یہ خصوصی لائٹس میدان کی گھاس کو محفوظ رکھنے اور تیزی سے بحال کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، خاص طور پر بارش یا خراب موسم کے بعد۔ فضائی تصاویر میں بھی اسٹیڈیم کی روشنیاں اسی وقت نمایاں دکھائی دیں جب شہری اس عجیب منظر کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر رہے تھے۔
اسٹیڈیم کے قریب لی گئی تصاویر میں آسمان کا رنگ زیادہ گہرا اور روشن دکھائی دیا، جبکہ جیسے جیسے فاصلے میں اضافہ ہوا، اس کی شدت کم ہوتی چلی گئی۔ ماہرین کے مطابق برف اور بادلوں میں موجود ذرات عام حالات کے مقابلے میں روشنی کو زیادہ منعکس کرتے ہیں، جس کے باعث زمینی روشنی خلا میں جانے کے بجائے واپس زمین کی طرف پلٹ آتی ہے اور پورے شہر میں عجیب رنگ بکھیر دیتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بی آئی ایس پی مستحق خواتین کے لیے بڑی سہولت، آئندہ قسط وصول کرنے کا نیا طریقہ سامنے آگیا
پشاور: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام قسط سے مستفید ہونے والی خواتین کے لیے اہم خبر سامنے آئی ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ قسط سے مستحق خواتین ملک بھر میں کسی بھی مجاز ریٹیلر یا بینکنگ ایجنٹ کے ذریعے اپنی رقم آسانی سے وصول کر سکیں گی۔
یہ اعلان انہوں نے پشاور کے مولوی امیر شاہ میموریل اسپتال میں قائم بینظیر نشوونما سہولتی مرکز کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ورلڈ فوڈ پروگرام کی کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش بھی ان کے ہمراہ موجود تھیں۔
ادائیگیوں کا نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل ہوگا
چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے بتایا کہ ادارہ ادائیگیوں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مکمل ڈیجیٹلائزیشن کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق نئے نظام کے نفاذ سے شفافیت میں اضافہ ہوگا اور مستحق خواتین کو ان کی رقم بغیر کسی کٹوتی کے براہِ راست مل سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام قسط کی ادائیگی کے عمل کو مزید آسان اور محفوظ بنانے کے لیے خصوصی ڈیجیٹل سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ مستحقین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ڈیجیٹل سم اور والٹ کی سہولت
روبینہ خالد کے مطابق بی آئی ایس پی کی مخصوص ڈیجیٹل سم متعارف کرائی جا چکی ہے، جو صرف مجاز دفاتر کے ذریعے جاری کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ مستحق خواتین کو ڈیجیٹل والٹ کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے، جس کے ذریعے انہیں ادائیگیوں اور قسطوں سے متعلق تمام اہم معلومات بروقت موصول ہوں گی۔
جعلی پیغامات سے ہوشیار رہنے کی ہدایت
چیئرپرسن نے مستحقین کو خبردار کیا کہ بی آئی ایس پی کے نام پر موصول ہونے والے غیر مصدقہ پیغامات اور کالز پر ہرگز اعتماد نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ فراڈ اور دھوکا دہی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا رہی ہے تاکہ غریب اور مستحق خواتین کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے میڈیا سے بھی اپیل کی کہ پروگرام سے متعلق کسی بھی خبر کی اشاعت سے قبل ادارے سے تصدیق ضرور کی جائے تاکہ غلط معلومات پھیلنے سے بچا جا سکے۔
1 کروڑ سے زائد خاندان مستفید
سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بی آئی ایس پی اس وقت ملک بھر میں ایک کروڑ سے زائد مستحق خاندانوں کی معاونت کر رہا ہے، جبکہ بینظیر نشوونما پروگرام ماں اور بچے کی صحت اور غذائیت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔