کراچی نے بانی پی ٹی آئی کو مسترد کر دیا، جلسے کی اجازت نہ دی جائے،راجہ انصاری
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
ترجمانِ وفاقی حکومت برائے سندھ، راجہ انصاری نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے، اس لیے تحریک انصاف کو شہرِ قائد میں جلسے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے عناصر جو دہشت گردوں کی حمایت یا پشت پناہی کرتے ہوں، انہیں عوامی پذیرائی نہیں ملنی چاہیے اور نہ ہی انہیں سیاسی سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت پی ٹی آئی کے جلسے کی اجازت نہ دے۔
راجہ انصاری نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ آمریت کے خلاف جدوجہد کی ہے اور وفاق صرف انہی لوگوں سے بات کرے گا جو آئین اور قانون کی پابندی پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق کراچی کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو قبول نہیں کیا اور گزشتہ روز ہونے والی سرگرمیوں میں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شہر بھر میں بڑی تعداد دکھانے کے باوجود کہیں بھی پانچ سو سے زائد افراد اکٹھے نہیں تھے، جبکہ غیر ملکی شہری بھی شامل تھے اور ریاستی اداروں کے خلاف نامناسب زبان استعمال کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام ضروری ہے لیکن کچھ سیاسی رہنما دوسروں کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے وزیرِاعلیٰ کو اپنے صوبے پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ وہ عوام اور آئین کے سامنے جواب دہ ہیں۔ راجہ انصاری نے الزام عائد کیا کہ صوبے میں دہشت گردی کے ہزاروں واقعات پیش آچکے ہیں اور بعض لوگ فوجی کارروائیوں کو دہشت گردی قرار دے کر اپنے حلف کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے عوام باشعور ہیں اور کل کوئی بڑی عوامی تعداد تحریک انصاف کا استقبال کرنے کے لیے باہر نہیں نکلی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آج پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت دی گئی تو کل کوئی بھی انتہاپسند گروہ ایسی ہی اجازت کا مطالبہ کر سکتا ہے، جبکہ جلسوں کی اجازت صرف سیاسی جماعتوں کو دی جاتی ہے، دہشت گردوں کو نہیں۔
راجہ انصاری کے مطابق وزیر اعظم نے صرف انہی رہنماؤں کو مذاکرات کی دعوت دی ہے جو آئین کی پاسداری کرتے ہیں، جبکہ دہشت گردی کی حمایت یا سہولت کاری کرنے والوں کے ساتھ کسی صورت مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پنجاب میں بھی عوام نے انہیں رد کیا اور جو شخص دوسروں کے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کرتا، اس سے بات چیت ممکن نہیں۔ ان کے مطابق مسلم لیگ ن کی آمریت کے خلاف جدوجہد سب پر واضح ہے اور آج نواز شریف کے بیانیے کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام نے تحریک انصاف کو مسترد کر دیا ہے اور مستقبل میں سندھ کا گورنر مسلم لیگ ن سے ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کراچی میں ٹریفک اور عوامی مسائل پر توجہ دی جائے اور سیاسی جلسوں کے نام پر شہر کی معمول کی زندگی متاثر نہ کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جلسے کی اجازت پی ٹی ا ئی کو انہوں نے عوام نے کے عوام کہا کہ
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز