ڈائیلاگ ہی واحد حل ہے، زرداری، نواز اور شہباز شریف کے پاس جائیں گے، فواد چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
لاہور:
پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے ڈائیلاگ ہی واحد حل ہے، اس کے لیے زرداری، نواز اور شہباز شریف کے پاس جائیں گے۔
بار کے انتخابات کے موقع پر سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری لاہور پہنچے جہاں انہوں نے میڈیا سے گفتگو کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ لاہور بار ایشیا کی سب سے بڑی بار ہے۔ یہاں ہر سال وکلا کے انتخابات ہوتے ہیں جو ایک جمہوری طریقہ کار ہے۔ وکلا ہمیشہ قانون کی سربلندی کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ جس طرح دنیا کے دیگر ممالک میں انتخابات ہوتے ہیں اسی طرح پاکستان میں بھی انتخابات ہونے چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے گزشتہ روز سندھ میں تحریک انصاف کو ویلکم کیا جس سے اچھا تاثر گیا۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو بھی سندھ حکومت کی جانب سے ویلکم کیا گیا۔ بلاول بھٹو کی سیاست میں ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست کی جھلک نظر آئی۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان ڈائیلاگ ہونا چاہیے کیونکہ پاکستان کو آگے بڑھانے کے لیے مذاکرات ہی واحد حل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری، نواز شریف اور شہباز شریف کے پاس جائیں گے اور تمام جماعتوں کے مل بیٹھنے سے معاملات ٹھیک ہوں گے۔
فواد چوہدری نے تحریک انصاف کی قید خواتین کے حوالے سے غور و فکر کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ جو سزا یافتہ خواتین ابھی سرنڈر نہیں کر سکیں، ان کی سزائیں سسپینڈ کی جانی چاہییں۔
خیبرپختونخوا کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے حوالے سے تحریک انصاف کو بہتر علم ہے کہ کیا ہو رہا ہے کیونکہ تحریک انصاف تیسری مرتبہ وہاں سے منتخب ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے مسائل کا حل تحریک انصاف کو بہتر معلوم ہے اور کے پی کے کو کس طرح ٹھیک کرنا ہے، یہ بات تحریک انصاف سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ فواد چوہدری تحریک انصاف کے لیے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔