ٹرمپ نوبیل انعام کے لیے پھر مچل گئے، پاک بھارت جنگ بندی کا تذکرہ دوبارہ چھیڑ دیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں تیل و گیس انڈسٹری کے عہدیداروں سے ملاقات کے دوران دوبارہ زور دے کر کہا کہ وہ نوبل امن انعام کے حقدار ہیں، اور اس ضمن میں انہوں نے مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والے کشیدہ حالات کو ختم کرنے میں اپنی کردار کا ذکر کیا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا نے صدر ٹرمپ کے ناقد نوبیل انعام یافتہ نائجیرین ادیب کا ویزا منسوخ کردیا
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی مداخلت نے کشیدگی کو تیز رفتاری سے ختم کیا اور جوہری خطرے کے بغیر دونوں ممالک میں جنگ کو روکا۔
ٹرمپ نے کہا کہ دنیا میں وہ واحد شخصیت ہیں جس نے 8 بڑے تنازعات کو ختم کیا اور ان میں سے کچھ تنازعات دہائیوں پر محیط تھے۔ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان مئی 2025 میں ہونے والے عسکری بحران پر بھی روشنی ڈالی، جب پاکستان پر بلا ثبوت حملے کا الزام عائد کیا گیا اور دونوں ممالک کے درمیان فوجی جھڑپیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں فضائی جہاز بھی مار گرائے گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے ستمبر میں ملاقات کی اور وزیر اعظم نے کھل کر اعتراف کیا کہ ٹرمپ کی کوششوں سے کم از کم ایک کروڑ افراد کی جانیں بچائی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن نوبیل انعام 2025 سے محروم: ’اب دنیا میں امن کی کوششوں کا کیا ہوگا؟‘
ٹرمپ نے اس موقع پر پاک فوج کے سربراہ جنرل فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بھی تعریف کی اور انہیں ایک ’بہت محترم جنرل‘ اور ’عظیم سپاہی‘ قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے سابق صدر اوباما کی بھی تنقید کی اور کہا کہ اوباما نوبل انعام حاصل کرنے کے قابل نہیں تھے کیونکہ انہوں نے کسی بھی جنگ کو ختم نہیں کیا، جبکہ انہوں نے اپنے اقدامات سے عالمی امن کو یقینی بنانے کا دعویٰ کیا۔
یہ ملاقات اور ٹرمپ کے بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب عالمی سطح پر پاکستان-بھارت کشیدگی کے مسائل پھر سے میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کی یہ کوشش ہے کہ عالمی سطح پر امن کے قیام میں ان کے کردار کو اجاگر کر کے نوبل امن انعام کے لیے موزوں قرار دیا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بھارت جنگ صدر ٹرمپ عاصم منیر نوبیل انعام.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک بھارت جنگ نوبیل انعام نوبیل انعام انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔