امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا قومی سلامتی کے مفاد میں گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرے گا، چاہے یہ کام بات چیت سے ہو یا پھر طاقت کے ذریعے۔ ان کا کہنا ہے کہ آرکٹک خطے میں روس اور چین کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں امریکا کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:گرین لینڈ پر امریکی قبضے کی تیاری، شہریوں کو فی کس ایک لاکھ ڈالر کی پیشکش پر غور

واشنگٹن میں ایک اجلاس کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا گرین لینڈ کے معاملے پر سنجیدہ ہے اور اس حوالے سے کوئی نہ کوئی قدم ضرور اٹھایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے کو ’آسان طریقے‘ سے حل کرنا چاہتے ہیں، تاہم اگر ایسا ممکن نہ ہوا تو ’مشکل راستہ‘ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔

twitter.

com/everruler14029/status/2007881421634073049

صدر ٹرمپ کے مطابق گرین لینڈ معدنی وسائل سے مالا مال ہے اور اس پر کنٹرول امریکی قومی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکا نے قدم نہ اٹھایا تو روس یا چین وہاں اپنا اثر و رسوخ بڑھا سکتے ہیں، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

ٹرمپ نے ڈنمارک کی خودمختاری کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ صرف اس بنیاد پر کہ ڈنمارک کا تاریخی تعلق گرین لینڈ سے رہا ہے، یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ ہمیشہ اس جزیرے کا مالک رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں:گرین لینڈ کے پوشیدہ ‘خزانے’ جن کی وجہ سے امریکا اس پر قبضہ کرنا چاہتا ہے

دوسری جانب ڈنمارک اور یورپی اتحادیوں نے امریکی صدر کے بیانات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ڈنمارک کی وزیر اعظم نے خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ پر کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا پہلے ہی گرین لینڈ میں ایک فوجی اڈا رکھتا ہے، جبکہ آئندہ دنوں میں امریکی وزیر خارجہ کی ڈنمارک اور گرین لینڈ کے نمائندوں سے ملاقات بھی متوقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ڈنمارک صدر ٹرمپ گرین لینڈ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا گرین لینڈ

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل