گرین لینڈ پر کنٹرول کے لیے سخت مؤقف، صدر ٹرمپ نے طاقت کے استعمال کا اشارہ دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا قومی سلامتی کے مفاد میں گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرے گا، چاہے یہ کام بات چیت سے ہو یا پھر طاقت کے ذریعے۔ ان کا کہنا ہے کہ آرکٹک خطے میں روس اور چین کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں امریکا کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:گرین لینڈ پر امریکی قبضے کی تیاری، شہریوں کو فی کس ایک لاکھ ڈالر کی پیشکش پر غور
واشنگٹن میں ایک اجلاس کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا گرین لینڈ کے معاملے پر سنجیدہ ہے اور اس حوالے سے کوئی نہ کوئی قدم ضرور اٹھایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے کو ’آسان طریقے‘ سے حل کرنا چاہتے ہیں، تاہم اگر ایسا ممکن نہ ہوا تو ’مشکل راستہ‘ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔
twitter.
صدر ٹرمپ کے مطابق گرین لینڈ معدنی وسائل سے مالا مال ہے اور اس پر کنٹرول امریکی قومی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکا نے قدم نہ اٹھایا تو روس یا چین وہاں اپنا اثر و رسوخ بڑھا سکتے ہیں، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے ڈنمارک کی خودمختاری کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ صرف اس بنیاد پر کہ ڈنمارک کا تاریخی تعلق گرین لینڈ سے رہا ہے، یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ ہمیشہ اس جزیرے کا مالک رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں:گرین لینڈ کے پوشیدہ ‘خزانے’ جن کی وجہ سے امریکا اس پر قبضہ کرنا چاہتا ہے
دوسری جانب ڈنمارک اور یورپی اتحادیوں نے امریکی صدر کے بیانات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ڈنمارک کی وزیر اعظم نے خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ پر کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا پہلے ہی گرین لینڈ میں ایک فوجی اڈا رکھتا ہے، جبکہ آئندہ دنوں میں امریکی وزیر خارجہ کی ڈنمارک اور گرین لینڈ کے نمائندوں سے ملاقات بھی متوقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ڈنمارک صدر ٹرمپ گرین لینڈ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔