حقوق خلق پارٹی نے تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شمولیت کا اعلان کیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
حقوق خلق پارٹی نے باضابطہ طور پر تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ لاہور پریس کلب میں خطاب کرتے ہوئے تحریک کے صدر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وہ آئین کی بحالی کے لیے سندھ سمیت تمام صوبوں میں جائیں گے اور پاکستان کی قیمت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے نواز شریف کو بھی محب وطن قرار دیا اور کہا کہ وہ ملک کے لیے اتنے ہی وفادار ہیں جتنا کوئی اور شخص۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ موجودہ بحران اتنا بڑا ہے کہ ملک میں چند ہی لوگ ہیں جو اس کا حل نکال سکتے ہیں۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ 8 فروری کو سب گھروں سے باہر نکلیں، مگر کسی کو گالیاں دینے یا الزام تراشی کرنے کے لیے نہیں بلکہ اجتماعی دانش کے ذریعے ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بحران بیرونی نہیں بلکہ اندرونی ہے، اور جعلی طریقے سے کچھ افراد کو بڑا بنایا گیا۔
تحریک کے رہنما راجہ ناصر عباس نے کہا کہ پارلیمنٹ غیر موثر بنائی گئی اور عدلیہ کو 26 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے بے اثر کر دیا گیا، جس کے بعد عوام کو اپنے حقوق کے لیے خود کھڑا ہونا پڑا۔ مصطفی نواز کھوکھر نے بھی کہا کہ موجودہ حالات سے نکلنے کا واحد راستہ آئین پر عمل درآمد ہے۔
حقوق خلق پارٹی کے سیکرٹری جنرل عمار علی جان نے کہا کہ 8 فروری کے لیے پنجاب کے عوام کو منظم کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں تاکہ آئین کی بحالی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے اجتماعی طور پر قدم اٹھایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔
بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔
پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔