پشاور چڑیا گھر میں خوشیوں کی لہر، ننھے بنگال ٹائیگرز سیاحوں کی توجہ کا مرکز
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
پشاور چڑیا گھر میں دو ننھے بنگال ٹائیگرز کی آمد نے چڑیا گھر کی رونقیں دوبالا کر دی ہیں اور یہ ننھے ٹائیگرز سیاحوں اور بچوں کی توجہ کا خاص مرکز بن گئے ہیں۔ ابتدائی دنوں میں انہیں خصوصی انٹینسیو کیئر میں رکھا گیا تھا، لیکن اب وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں اور عام انکلوژر میں منتقل کر دیے گئے ہیں۔
چڑیا گھر انتظامیہ کے مطابق ننھے ٹائیگرز اب سیاحوں کے لیے نمائش میں پیش کیے جا رہے ہیں، اور شہری اور بچے ان کی معصوم حرکتوں کو دیکھ کر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ ننھے ٹائیگرز سب کی توجہ حاصل کر چکے ہیں۔
وائلڈ لائف حکام کے مطابق بنگال ٹائیگر دنیا کی سب سے طاقتور اور خوبصورت جنگلی بلیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ عموماً گھنے جنگلات، سرسبز میدانوں اور پانی کے قریب رہنا پسند کرتے ہیں، گرم اور مرطوب ماحول میں بہتر نشوونما پاتے ہیں اور تیراکی میں بھی ماہر ہیں۔ فطرتاً یہ تنہا رہنے والے جانور ہیں اور اپنی حدود کا خاص خیال رکھتے ہیں۔
چڑیا گھر انتظامیہ نے بتایا کہ ننھے ٹائیگرز کی بہتر دیکھ بھال، مناسب خوراک اور قدرتی ماحول سے قریب سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ وہ صحت مند اور خوشگوار ماحول میں پروان چڑھ سکیں۔
شہریوں نے چڑیا گھر کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ اس سے نہ صرف تفریح کے مواقع بڑھیں گے بلکہ جنگلی حیات سے متعلق آگاہی میں بھی اضافہ ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز