بھارت میں ایک خاتون نے اپنے شوہر اور چار سسرالیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ ایف آئی آر میں الزام ہے کہ 2024 میں شادی کے وقت شوہر نے اپنے گنجے ہونے کا факт چھپایا اور خاتون کو دھوکہ دیا۔
بسراکھ پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق، لویکا گپتا اور سنیام جین 16 جنوری 2024 کو شادی کے بندھن میں بندھے۔ اہلیہ نے دعویٰ کیا کہ شادی سے قبل سنیام اور ان کے خاندان نے ان کی ظاہری شکل، تعلیم اور مالی حالات سے متعلق اہم تفصیلات چھپائیں۔
ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ شادی کے بعد خاتون کو معلوم ہوا کہ ان کے شوہر دراصل صرف 12 ویں پاس ہیں، جبکہ ان کے بائیو ڈیٹا میں بی کام کی ڈگری درج تھی۔ اسی طرح، ان کی سالانہ آمدنی 18 لاکھ بھارتی روپے بتائی گئی تھی، جو حقیقت میں غلط نکلی۔
مزید الزام ہے کہ شادی کے وقت سنیام نے کہا تھا کہ ان کے گھنے بال ہیں، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ وہ گنجے ہیں اور گنج پن چھپانے کے لیے وِگ استعمال کرتے ہیں۔
پولیس کے مطابق خاتون نے یہ بھی الزام لگایا کہ شوہر نے ایک بیرون ملک سفر کے دوران ان کے ساتھ بدسلوکی کی اور انہیں تھائی لینڈ سے بھارت لانے کے لیے دباؤ بھی ڈالا۔
یہ واقعہ بھارت میں شادی کے دوران دھوکے اور جھوٹ پر مبنی مقدمات کی ایک مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ایف ا ئی ا ر شادی کے

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار