راولپنڈی (آئی این پی ) حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک  نے کہا ہے  کہ 28جنوری کو یاسین ملک کو ممکنہ پھانسی کا خدشہ ہے، شوہر کیلئے  نہیں،لاکھوں شہدا کیلئے نکلی ہوں۔ مشعال ملک نے باجوڑ پلازہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کی تحریک کسی سیاست کا نام نہیں بلکہ قربانی اور انسانیت کی تحریک ہے۔مشال ملک کا کہنا تھا کہ ہم تخت نہیں بلکہ تختہ چاہتے ہیں، ہم ووٹ یا اقتدار کے لیے نہیں نکلے بلکہ مظلوموں کے حق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں ، کشمیری اور فلسطینی آج حق اور باطل کی سب سے بڑی جنگ لڑ رہے ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی کے دورِ حکومت میں مقبوضہ کشمیر میں بدترین نسل کشی جاری ہے، مساجد کو شہید کیا جا رہا ہے جبکہ مندروں کی تعمیر کی جا رہی ہے۔ مشال ملک کے مطابق کشمیری ماں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں پامال کی گئیں۔حریت رہنما کی اہلیہ نے مزید کہا کہ لاکھوں کشمیری شہید ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں لاپتہ ہیں، مگر افسوس کے ساتھ دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ یاسین ملک گزشتہ ساڑھے چھ سال سے تنہائی کے سیل میں قید ہیں اور انہیں وکیل، اہلِ خانہ اور ملاقات کا بنیادی حق بھی نہیں دیا جا رہا۔مشعال ملک نے خدشہ ظاہر کیا کہ 28 جنوری کو یاسین ملک کو ممکنہ طور پر پھانسی دی جا سکتی ہے ۔شوہر کے لیے نہیں،لاکھوں شہداکیلئے نکلی ہوں،مشعال ملک کا کہنا تھا کہ کشمیرکے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا

علامتی فوٹو

حکومت نے مسلسل تیسرے روز پیٹرول جبکہ چوتھے روز ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں اضافہ کردیا ہے۔

اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں 24 جولائی کے لیے ہوں گی۔

خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ خطے کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کیا جائے گا۔

اوگرا وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے بغیر قیمتوں کا اعلان کرے گا، جبکہ ہفتہ اور اتوار کو گزشتہ اعلان کردہ قیمتیں برقرار رہیں گی۔

یومیہ اعلان کے تحت اب تک کی تبدیلی

علم میں رہے کہ 21 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 35 پیسے کمی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 71 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔

22 جولائی کیلئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 93 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا۔

اسی طرح 23 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم