یاسین ملک کو پھانسی دئیے جانے کا خدشہ ہے،شوہر کیلئے نہیں شہدا کیلئے نکلی ہوں: مشعال ملک
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
راولپنڈی (آئی این پی ) حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ 28جنوری کو یاسین ملک کو ممکنہ پھانسی کا خدشہ ہے، شوہر کیلئے نہیں،لاکھوں شہدا کیلئے نکلی ہوں۔ مشعال ملک نے باجوڑ پلازہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کی تحریک کسی سیاست کا نام نہیں بلکہ قربانی اور انسانیت کی تحریک ہے۔مشال ملک کا کہنا تھا کہ ہم تخت نہیں بلکہ تختہ چاہتے ہیں، ہم ووٹ یا اقتدار کے لیے نہیں نکلے بلکہ مظلوموں کے حق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں ، کشمیری اور فلسطینی آج حق اور باطل کی سب سے بڑی جنگ لڑ رہے ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی کے دورِ حکومت میں مقبوضہ کشمیر میں بدترین نسل کشی جاری ہے، مساجد کو شہید کیا جا رہا ہے جبکہ مندروں کی تعمیر کی جا رہی ہے۔ مشال ملک کے مطابق کشمیری ماں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں پامال کی گئیں۔حریت رہنما کی اہلیہ نے مزید کہا کہ لاکھوں کشمیری شہید ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں لاپتہ ہیں، مگر افسوس کے ساتھ دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ یاسین ملک گزشتہ ساڑھے چھ سال سے تنہائی کے سیل میں قید ہیں اور انہیں وکیل، اہلِ خانہ اور ملاقات کا بنیادی حق بھی نہیں دیا جا رہا۔مشعال ملک نے خدشہ ظاہر کیا کہ 28 جنوری کو یاسین ملک کو ممکنہ طور پر پھانسی دی جا سکتی ہے ۔شوہر کے لیے نہیں،لاکھوں شہداکیلئے نکلی ہوں،مشعال ملک کا کہنا تھا کہ کشمیرکے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔