وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھکاری مافیا، منظم گداگری کے نیٹ ورکس اور غیر قانونی امیگریشن میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی ہدایت جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے نام کو کسی بھی صورت بدنام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں بھکاری مافیا ’چیفس‘ کے گرد شکنجہ مزید سخت

یہ ہدایات ایف آئی اے امیگریشن ونگ کی جاری کارروائیوں کے تفصیلی جائزے کے بعد دی گئیں۔ اس سلسلے میں اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت وزیر داخلہ محسن نقوی نے کی۔ اجلاس میں وفاقی سیکریٹری داخلہ، ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران غیر قانونی امیگریشن، انسانی اسمگلنگ اور منظم بھکاری مافیا کے خلاف جاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا، وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل مکانی میں ملوث نیٹ ورکس کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں اور کسی کو بھی رعایت نہ دی جائے۔

محسن نقوی نے امیگریشن قوانین پر سختی سے عملدرآمد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال مزید مؤثر بنائی جائے اور ہوائی اڈوں پر امیگریشن کنٹرول کو مضبوط کیا جائے۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مستعدی اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت کی۔

یہ بھی پڑھیں: قانون نافذ کرنا ہمارا کام، مذاکرات جن کی ذمہ داری ہے وہی کریں گے، محسن نقوی کا پی ٹی آئی کو پیغام

اجلاس میں ایف آئی اے کی جانب سے جاری مہمات کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس امر کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا کہ بھکاری مافیا سمیت تمام منظم جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائیاں مؤثر اور مسلسل بنیادوں پر جاری رہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بھکاری مافیا غیر قانونی امیگریشن گداگر محسن نقوی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھکاری مافیا غیر قانونی امیگریشن گداگر محسن نقوی بھکاری مافیا محسن نقوی کے خلاف

پڑھیں:

آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل