کشمیر میں دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد کوئی بہتری نہیں آئی ہے، عمر عبداللہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
پہلگام دہشتگرد حملے اور دہلی میں ہوئے دھماکوں کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ امن، ترقی اور خوشحالی سے متعلق کئے گئے تمام وعدے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ دفعہ 370 کی تنسیخ کے بعد جموں کشمیر میں تبدیلی تو آئی ہے، مگر زمینی سطح پر کوئی بہتری نہیں ہوئی، زمینی سطح پر حالات بالکل بھی ویسے نہیں، جیسے مودی حکومت نے اس فیصلے کے وقت دعوے کئے تھے۔ ان باتوں کا اظہار جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے ریاست پنجاب میں کیا۔ امرتسر میں این جی او "پھلکاری ویمن آف امرتسر" کے ایک پروگرام کے موقع پر میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں نہ تشدد میں کمی آئی ہے، نہ بے روزگاری گھٹی ہے اور نہ ہی دہشتگردی پر قابو پایا جا سکا ہے۔ عمر عبداللہ کا یوٹی کے وزیراعلٰی بننے کے بعد امرتسر کا پہلا دورہ تھا۔ عمر عبداللہ کے مطابق "بدلاؤ تو آیا ہے، لیکن کیا بہتری آئی ہے، یہی سوال ہے"۔ پہلگام دہشتگرد حملے اور دہلی میں ہوئے دھماکوں کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ امن، ترقی اور خوشحالی سے متعلق کئے گئے تمام وعدے غلط ثابت ہوئے ہیں۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ سیاحوں کی آمد میں بتدریج اضافہ ضرور ہوا ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اس بار صرف تعداد بڑھانے کی دوڑ میں شامل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ جموں و کشمیر آنے والے سیاحوں کو نشانہ بنایا جائے۔ عمر عبداللہ نے منریگا اسکیم میں کی گئی تبدیلیوں پر بھی تنقید کی۔ ان کا الزام تھا کہ مرکز نے اس اسکیم کا نام بدل کر اسے کمزور کر دیا ہے اور پہلے سے قرض میں ڈوبی ریاستوں پر مزید مالی بوجھ ڈال دیا ہے۔
سندھ طاس معاہدے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیراعلٰی نے کہا کہ اس معاہدے سے جموں و کشمیر کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا ایک بڑا رقبہ رنجیت ساگر ڈیم کے زیر استعمال ہے، مگر ہمیں اس کا کوئی معاوضہ نہیں ملا۔ اس منصبے سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ بھارتی حکموت کو چاہیئے کہ وہ ایسے اقدامات اٹھائے کہ ہم ان دریاؤں کے پانی کو استعمال کرسکیں جو اس معاہدے کا حصہ ہیں۔ عمر عبداللہ نے مودی حکومت پر جموں و کشمیر کو مزید تقسیم کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تقسیم سے خطے کا مستقبل خطرے میں پڑجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم سے لداخ کو پہلے ہی کافی نقصان پہنچ چکا ہے اور اب جموں و کشمیر کو بھی اسی راستے پر دھکیلا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ عمر عبداللہ نے
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ