پی آئی اے کی نجکاری کے بعد ریٹائرڈ ملازمین کےلئے میڈیکل سہولت جاری رکھنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
کراچی: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے بعد ریٹائرڈ ملازمین کو میڈیکل سہولت اسٹیٹ لائف انشورنس کے ذریعے جاری رکھنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
میڈیا ذرائع کے مطابق اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی نے پی آئی اے کے ریٹائرڈ ملازمین کو میڈیکل سہولیات دینے کے لیے تحریری احکامات جاری کردیے ہیں۔ جاری احکامات کے مطابق پی آئی اے کے ریٹائرڈ ملازمین کو ملک بھر میں اسٹیٹ لائف انشورنس کے پینل پر اسپتالوں میں میڈیکل سہولیات دی جائیں گی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پی آئی اے کے ریٹائرڈ ملازمین کو میڈیکل میں لیباریٹری سہولیات بھی شامل ہوں گی۔اسٹیٹ لائف انشورنس نے تمام پینل پر موجود اسپتالوں اور لیباریٹریز کو تحریری ہدایت جاری کردی ہیں۔
جاری احکامات میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ ڈسٹرکٹ میڈیکل افسران (ڈی ایم اوز اور ہیلتھ فیسلیٹی افسران (ایچ ایف اوز) ان احکامات پر عمل درآمد کے لیے اسپتال کی انتظامیہ کے ساتھ رابطے کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ریٹائرڈ ملازمین کو اسٹیٹ لائف انشورنس پی ا ئی اے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔