پی ڈی پی کی صدر نے کہا کہ بھارتی ایجنسیوں کی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی چھاپہ مار کارروائیاں پہلے کشمیر میں تیز کی گئیں اور بعد میں پورے ملک میں پھیل گئیں۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی بندش بظاہر پہلے سے طے شدہ معلوم ہوتی ہے اور خبردار کیا کہ اس فیصلے نے ایک خطرناک مثال قائم کی ہے جس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ میڈیکل کالج کی ڈی ریکگنیشن کے گرد پیش آنے والے واقعات کا سلسلہ سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک شام عمر عبداللہ نے کہا کہ کالج بند ہونا چاہیئے اور اگلے ہی دن اسے بند کر دیا گیا، یہ محض اتفاق نہیں لگتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات خوف اور غیر یقینی کی فضا پیدا کرتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اس فیصلے سے ملک کے دیگر حصوں میں انتہاپسند عناصر کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ کل کو کوئی دائیں بازو کی تنظیم ملک کے کسی بھی حصے میں احتجاج کر کے کشمیر سے مسلم طلبہ کو نکالنے کا مطالبہ کر سکتی ہے، یہ ایک روایت بن جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کو ایک تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور جو کچھ یہاں آزمایا جاتا ہے وہ بعد میں ملک کے دوسرے حصوں میں دہرایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی مرکزی ایجنسیوں کی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی چھاپہ مار کارروائیاں پہلے کشمیر میں تیز کی گئیں اور بعد میں پورے ملک میں پھیل گئیں۔ مغربی بنگال میں حالیہ پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی اس دباؤ کے خلاف ڈٹی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی ایک شیردل خاتون ہیں اور ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہیں۔

محبوبہ مفتی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ جموں میں جان بوجھ کر لوگوں کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جموں و کشمیر کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا تو یہ محمد علی جناح کے پیش کردہ دو قومی نظریے کی عملی توثیق ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قیادت نے دو قومی نظریے کو مسترد کیا تھا کیونکہ ہمارا یقین گاندھی کے بھارت پر تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج ہم ریاستوں کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے لگیں تو اس کا مطلب ہوگا کہ جناح درست تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: محبوبہ مفتی نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ کیا کہ

پڑھیں:

کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ

 ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کے لیے ’’روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ٹریفک پولیس نے شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی، روڈ سیفٹی کے فروغ اور عوام دوست پولیسنگ کے وژن کو مزید مؤثر بنانے کے لیے "روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ" قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

روڈ سیفٹی آفیسرز شہر کی اہم اور مصروف شاہراہوں بشمول شاہراہ فیصل ، ماڑی پور روڈ ، کورنگی روڈ اور شاہراہ لیاقت پر تعینات کیے جائیں گے جہاں وہ ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے، شہریوں کو متبادل راستوں اور سفری سہولیات سے متعلق معلومات فراہم کرنے اور بروقت مدد کے فرائض انجام دیں گے۔

ترجمان کے مطابق یونٹ کے قیام سے شہریوں کو محفوظ سفری ماحول میں رہنمائی ملے گی ، یہ یونٹ شہریوں اور ٹریفک پولیس کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ دوران سفر پیش آنے والی مشکلات کے فوری حل اور مؤثر رہنمائی میں اہم کردار ادا کریگا۔

یونٹ کا مقصد ٹریفک قوانین ، روڈ سیفٹی اقدامات اور ذمہ دارانہ طرز ڈرائیونگ کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر اور اس میں مزید اضافہ کرنا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار