دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد پہلی مرتبہ جموں و کشمیر میں مردم شماری ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
کانگریس کے سینیئر لیڈر نے کہا کہ مردم شماری پہلے ہی بہت تاخیر کی شکار ہے، تاہم یہ مردم شماری اصل آبادی، ذات، مذہب اور علاقائی تناسب کو واضح کریگی۔ اسلام ٹائمز۔ تازہ سرکاری ڈیٹا دستیاب نہ ہونے کے سبب تقریباً 16 سال بعد مقبوضہ جموں کشمیر میں مردم شماری 2027ء کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس مردم شماری کو 5 اگست 2019ء کو خصوصی آئینی حیثیت یعنی دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد، حکومتی منصوبہ بندی، انتظامی فیصلوں اور سیاسی نمائندگی کے لئے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ مردم شماری 2027ء کا پہلا مرحلہ یعنی مکانات کا شمار و گھروں کی فہرست سازی، یکم اپریل سے 30 ستمبر 2026ء کے درمیان ہوگی۔ اس دوران ریاستیں اور یونین ٹیریٹریز اپنی سہولت کے مطابق اسی مدت میں 30 دن تک یہ عمل مکمل کریں گیں۔ پہلے مرحلے میں گھروں، رہائشی حالات، سہولتوں اور اثاثوں کی تفصیلات جمع کی جائیں گیں۔ یہی ڈیٹا 2027ء میں ہونے والی مکمل آبادی گنتی کی بنیاد بنے گا۔
بھارت میں آخری مردم شماری 2011ء میں ہوئی تھی وہیں جموں کشمیر اور لداخ کے لئے یہ مردم شماری مزید اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ ریاست سے یونین ٹیریٹری بنائے جانے کے بعد یہ پہلی مردم شماری ہوگی۔ 2021ء کی مردم شماری کووڈ وبا کی وجہ سے ملتوی ہوئی اور دوبارہ شروع نہ ہو سکی، جس کے بعد دونوں خطے تقریباً ڈیڑھ دہائی سے نئے آبادی ڈیٹا کے بغیر ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تازہ ڈیٹا نہ ہونے سے فلاحی اسکیموں، بنیادی ڈھانچے، شہری منصوبہ بندی اور مختلف شعبوں کی پالیسی بنانے میں مشکلات حائل ہو رہی ہیں۔ ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ جموں کشمیر میں حالیہ سیاسی اور انتظامی تبدیلیوں کے بعد، مردم شماری وقت کی اہم ضرورت ہے، اس سے زمینی سطح پر اصل آبادی اور سماجی و معاشی حقائق پوری طرح واضح ہوں گے۔
2019ء میں جموں کشمیر کو یونین ٹیریٹری بنایا گیا، جبکہ لداخ کو آرٹیکل 370 ختم ہونے کے بعد الگ یونین ٹیریٹری بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد سے دونوں خطوں میں انتظامی ڈھانچے، حکمرانی، سیاحت، نقل مکانی، معیشت اور دیگر شعبوں میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ وہیں سیاسی جماعتوں نے مردم شماری کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے لیکن "شفاف اور سائنسی طریقے سے عمل" کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔ نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار کا ماننا ہے کہ مردم شماری سے کئی ابہام دور ہوں گے اور حکومت، آبادی کے تناسب کے مطابق پالیسیاں وضع کر سکے گی۔
کانگریس کے سینیئر رہنما اور سابق رکن پارلیمنٹ چودھری لال سنگھ نے کہا کہ مردم شماری پہلے ہی بہت تاخیر کی شکار ہے، تاہم یہ مردم شماری اصل آبادی، ذات، مذہب اور علاقائی تناسب کو واضح کرے گی، فنڈز اور اسمبلی و پارلیمنٹ نشستوں کی ضرورت بھی صاف ہوجائے گی، یہ قدم اچھا ہے لیکن شفاف اور غیر جانبدار ہونا ضروری ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رکن اسمبلی وحید الرحمن پرہ نے بھی مردم شماری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ عوام کے مفاد میں اور سائنسی طریقے سے ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہ مردم شماری کے بعد
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔