کانگریس کے سینیئر لیڈر نے کہا کہ مردم شماری پہلے ہی بہت تاخیر کی شکار ہے، تاہم یہ مردم شماری اصل آبادی، ذات، مذہب اور علاقائی تناسب کو واضح کریگی۔ اسلام ٹائمز۔ تازہ سرکاری ڈیٹا دستیاب نہ ہونے کے سبب تقریباً 16 سال بعد مقبوضہ جموں کشمیر میں مردم شماری 2027ء کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس مردم شماری کو 5 اگست 2019ء کو خصوصی آئینی حیثیت یعنی دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد، حکومتی منصوبہ بندی، انتظامی فیصلوں اور سیاسی نمائندگی کے لئے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ مردم شماری 2027ء کا پہلا مرحلہ یعنی مکانات کا شمار و گھروں کی فہرست سازی، یکم اپریل سے 30 ستمبر 2026ء کے درمیان ہوگی۔ اس دوران ریاستیں اور یونین ٹیریٹریز اپنی سہولت کے مطابق اسی مدت میں 30 دن تک یہ عمل مکمل کریں گیں۔ پہلے مرحلے میں گھروں، رہائشی حالات، سہولتوں اور اثاثوں کی تفصیلات جمع کی جائیں گیں۔ یہی ڈیٹا 2027ء میں ہونے والی مکمل آبادی گنتی کی بنیاد بنے گا۔

بھارت میں آخری مردم شماری 2011ء میں ہوئی تھی وہیں جموں کشمیر اور لداخ کے لئے یہ مردم شماری مزید اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ ریاست سے یونین ٹیریٹری بنائے جانے کے بعد یہ پہلی مردم شماری ہوگی۔ 2021ء کی مردم شماری کووڈ وبا کی وجہ سے ملتوی ہوئی اور دوبارہ شروع نہ ہو سکی، جس کے بعد دونوں خطے تقریباً ڈیڑھ دہائی سے نئے آبادی ڈیٹا کے بغیر ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تازہ ڈیٹا نہ ہونے سے فلاحی اسکیموں، بنیادی ڈھانچے، شہری منصوبہ بندی اور مختلف شعبوں کی پالیسی بنانے میں مشکلات حائل ہو رہی ہیں۔ ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ جموں کشمیر میں حالیہ سیاسی اور انتظامی تبدیلیوں کے بعد، مردم شماری وقت کی اہم ضرورت ہے، اس سے زمینی سطح پر اصل آبادی اور سماجی و معاشی حقائق پوری طرح واضح ہوں گے۔

2019ء میں جموں کشمیر کو یونین ٹیریٹری بنایا گیا، جبکہ لداخ کو آرٹیکل 370 ختم ہونے کے بعد الگ یونین ٹیریٹری بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد سے دونوں خطوں میں انتظامی ڈھانچے، حکمرانی، سیاحت، نقل مکانی، معیشت اور دیگر شعبوں میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ وہیں سیاسی جماعتوں نے مردم شماری کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے لیکن "شفاف اور سائنسی طریقے سے عمل" کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔ نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار کا ماننا ہے کہ مردم شماری سے کئی ابہام دور ہوں گے اور حکومت، آبادی کے تناسب کے مطابق پالیسیاں وضع کر سکے گی۔

کانگریس کے سینیئر رہنما اور سابق رکن پارلیمنٹ چودھری لال سنگھ نے کہا کہ مردم شماری پہلے ہی بہت تاخیر کی شکار ہے، تاہم یہ مردم شماری اصل آبادی، ذات، مذہب اور علاقائی تناسب کو واضح کرے گی، فنڈز اور اسمبلی و پارلیمنٹ نشستوں کی ضرورت بھی صاف ہوجائے گی، یہ قدم اچھا ہے لیکن شفاف اور غیر جانبدار ہونا ضروری ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رکن اسمبلی وحید الرحمن پرہ نے بھی مردم شماری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ عوام کے مفاد میں اور سائنسی طریقے سے ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہ مردم شماری کے بعد

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی