دنیا کا کوئی فضائی نظام نہیں جو ’اور شنیک ہائپرسونک میزائل‘ کو روک سکے: روسی صدارتی ایلچی
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
روس کے خصوصی صدارتی ایلچی کریل دمتریئیف نے یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالاس کے بیان پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں کوئی ایسا فضائی دفاعی نظام موجود نہیں جو روس کے اورشنیک ہائپر سونک میزائل کو روک سکے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق کریل دمتریئیف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے تبصرے میں کہا کہ کایا کالاس اتنی باخبر نہیں ہیں، تاہم انہیں یہ ضرور معلوم ہونا چاہئے کہ میک 10 رفتار رکھنے والے اورشنیک میزائل کے خلاف کوئی فضائی دفاع موجود نہیں۔
روسی وزارت دفاع نے تصدیق کی تھی کہ روسی افواج نے یوکرین کی اہم تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا ہے، جس میں اورشنیک میزائل نظام بھی استعمال کیا گیا۔
وزارت دفاع کے مطابق یہ کارروائی گزشتہ ماہ صدر ولادیمیر پوتن کی رہائش گاہ پر کیے گئے یوکرینی ڈرون حملے کے جواب میں کی گئی، جبکہ حملے کے تمام اہداف کامیابی سے حاصل کر لیے گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔