ایران میں حالیہ کشیدگی پر پاکستان کی بہترین سفارت کاری مرکز نگاہ بن گئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
ایران میں حالیہ کشیدگی پر پاکستان کی بہترین سفارت کاری مرکز نگاہ بن گئی WhatsAppFacebookTwitter 0 10 January, 2026 سب نیوز
تہران(آئی پی ایس )ایران میں حالیہ کشیدگی پر پاکستان کی بہترین سفارت کاری مرکز نگاہ بن گئی۔علاقائی تنازعات کے خاتمے اور خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کی سفارتکاری اہم قرار دی جا رہی ہے جب کہ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے پاکستان کی علاقائی اہمیت اور موثر سفارتکاری کا اعتراف کیا ہے۔ دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق؛ وینزویلا کی صورتحال کے بعد واشنگٹن کے سخت گیر حلقوں میں ایران کو اگلا ہدف بنانے کا تصور مضبوط ہوا ہے، صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ مظاہرین پر کریک ڈان کی صورت میں امریکا مداخلت کرے گا، تاہم اس کی نوعیت واضح نہیں کی۔
دی نیشنل انٹرسٹ نے کہا کہ ایران کے ساتھ وینزویلا جیسا رویہ نہ صرف ناکام تصور ہوگا بلکہ جنوبی ایشیا میں ایک سنگین کثیرالجہتی بحران کو جنم دے سکتا ہے ، ایران کیخلاف کارروائی کی مخالفت صرف خلیج فارس تک محدود نہیں، یہ پورے خطے میں پھیلی ہوئی ہے، جنوبی ایشیا میں امریکہ کا اہم شراکت دار پاکستان بھی ایران کیخلاف کسی قسم کی کارروائی کا حامی نہیں، پاکستان اور امریکا کے تعلقات فیلڈ مارشل عاصم منیر کی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد نمایاں طور پر بہتر ہوئے ہیں۔
دی نیشنل انٹرسٹ نے کہا کہ پاکستان پر تشدد طریقے سے ایران میں حکومتی نظام کی تبدیلی کی حمایت نہیں کرتا کیونکہ اس سے انتشاربڑھنے کاخدشہ ہے، اس صورتحال سے دہشتگردوں کو تقویت ملے گی جو پاک ایران مشترکہ سرحدپردونوں اطراف میں سرگرم ہیں ، ایران میں رجیم چینج کے بعد فتنہ الہندوستان کو وسیع پناہ گاہ اور ہتھیار میسر آسکتے ہیں۔پاکستان میں مہاجرین کے ہجوم کا امکان ایک اور بنیادی قومی سلامتی کا مسئلہ ہے، ایران وینزویلا کے برعکس مضبوط فوجی طاقت ہے اور خلیجِ فارس میں تیل کی ترسیل متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، پاکستان کو بھارت سے کشیدگی اور افغانستان سے دہشتگردانہ حملوں کا سامنا کرتا ہے، پاکستان اپنی مغربی سرحد پرجنگ اور بے امنی برداشت نہیں کر سکتا۔
یہ صورتحال فوجی حل کی طرف نہیں بلکہ ایک سفارتی راستے کی طرف اشارہ کرتی ہے ، ایران کے بیلسٹک میزائل ختم کرنے سے لے کر حکومت مخالف مظاہرین کی حفاظت تک جنگ کے بجائے امریکہ کو علاقائی شراکت داروں کو استعمال میں لانا چاہیے، امریکہ کو چاہیے کہ وہ ایسے علاقائی شراکت داروں سے فائدہ اٹھائے جن کا استحکام میں حقیقی مفاد ہو۔
دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے ایران اور امریکہ، دونوں کے ساتھ اہم سفارتی رابطے اور تعلقات ہیں ، ماضی کے برعکس ایران نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سلامتی کے معاہدے کا خیرمقدم کیا، پاکستان اس صورتحال میں مدد کر سکتا ہے۔وہ پہلے ہی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے ، ایران میں مداخلت کرنے سے خطہ غیر مستحکم ہوجائے گا، مستقبل کی راہ پاکستان جیسے ممالک کی دوراندیش ریاستی حکمتِ عملی اور سفارت کاری سے متعین ہوتی ہے۔
پاکستان کی موثر سفارت کاری اور عالمی اثر و رسوخ کی دنیامعترف ہے، پاکستان بہترین سفارت کاری اور نیشنل کلیرٹی کی وجہ سے خطے میں نیٹ ریجنل سٹیبلائزر کے طور پر ابھر رہا ہے، سیاسی اور عسکری قیادت کی قومی بصیرت کی بدولت نہ صرف مشرق وسطی بلکہ پاکستان کے اہم سفارتی کردار کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان سوڈان کو ڈیڑھ ارب ڈالر کا اسلحہ اور جنگی طیارے فروخت کریگا، برطانوی خبر ایجنسی پاکستان سوڈان کو ڈیڑھ ارب ڈالر کا اسلحہ اور جنگی طیارے فروخت کریگا، برطانوی خبر ایجنسی کے پی کے مسائل کا ادراک،منصوبوں کی بروقت تکمیل ترجیح ہے،وزیر اعظم امریکا میں لاکھوں ڈالرز کی لابنگ کے باوجود بھارت کو سفارتی محاذ پر شکست پاک امریکا 13 ویں انسداد دہشت گردی مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز عراق کا جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی خریداری میں گہری دلچسپی کا اظہار ایرانی سیکیورٹی فورسز مظاہرین پر تشدد سے باز رہیں، فرانس، برطانیہ اور جرمنیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بہترین سفارت کاری پاکستان کی ایران میں
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔