بے نقاب /ایم آر ملک
سچائی، اگر ہمارے سیاسی منظرنامے میں جیتی جاگتی ہوتی، تو غالباً وہ ایک ایسی نرگسیت زدہ حسینہ ہوتی جو چوبیس گھنٹے آئینے کے سامنے کھڑی اپنی شفافیت پر نثار ہوتی رہتی۔ مگر وہ آئینہ خود اس کے چہرے کا اصل روپ دکھانے سے قاصر ہوتا کیونکہ یہ آئینہ بھی تو ”سرکاری پروپیگنڈے کے شیشہ گر خانے” میں تیار ہوا ہوتا۔ وہ اپنے عکس کو دیکھ کر کسی خود ساختہ تربیت یافتہ ”پیامبر” کی طرح اعلان کرتی: ”دیکھو! میں ہی اکلوتی سچائی ہوں، باقی سب نقاب پوش جھوٹ ہیں”! اور ہم عوام، جو کبھی ‘قوم’ کہلانے کی جتنی کرتی پھرتی تھی، اب صرف ”بیان بازی کی مریض” بن کر اس کے سامنے سر جھکائے کھڑے ہیں جیسے کوئی گمشدہ ضمیر کی تلاش میں نکلا ہوا پجاری۔
سچائی کا سب سے بڑا فریب یہی ہے کہ اسے اپنے کامل ہونے کا جنون ہے۔ وہ خود کو آسمانی وحی سے ملتی جلتی شے سمجھتی ہے اور ہر دوسری آواز کو ”سازش کا شور”۔ ہمارے ہاں سچائی کے یہ ٹھیکیدار بڑے ہی رنگین مزاج ہیں۔ایک دن وہ ”جمہوریت کے سپاہی” بن جاتے ہیں تو دوسرے دن ”استحکام کے علمبردار”۔ ان کی سچائی کبھی خادمِ اعلیٰ کی منطق سے اترتی ہے، کبھی جلاوطنی کے سوٹ کیس سے نکلتی ہے، اور کبھی کسی ”ڈیل” کے پلندے میں بندھی ملتی ہے۔ یہ وہ پجاری ہیں جو سچائی کی تلاش میں نہیں، بلکہ اپنی انا کی مورتی کو سچائی کا لیبل لگا کر سود و زیاں کی منڈی میں اتارنے نکلے ہیں۔ان کے نزدیک سچ وہی ہے جو ان کے ”ٹویٹر ٹائم لائن” پر چمکے، اور جھوٹ وہ جو مخالف کی ”پریس بریفنگ” میں گونجے۔ مشیل فوکو آج ہمارے ہاں آتا تو کہتا: ”یہاں سچائی علم نہیں، ایک ہتھیار ہے جس کا ہینڈل جس کے ہاتھ میں، وہی ‘سچ’ کا مالک”۔ سچائی کی یہ خود پسندی اسے ڈھلتے شام کے سائے کی طرح لمبا کر دیتی ہے کبھی وہ ”یوٹرن” کو حکمت ِ عملی کہتی ہے، کبھی ”فرار” کو سفری ضرورت۔ جو ”عوام کا چہیتا” ہے، آج دوسو سے زائد ایف آئی آرز کے بوجھ تلے ”باغی” بن کراڈیالہ میں سزا کاٹ رہا ہے، اور جو کل ”زیر عتاب ” تھا، آج ”نجات دہندہ” بن کر اسی نظام کو مقدس بنا رہا ہے۔
جون ایلیا نے شاید ایسے ہی منظر دیکھ کر کہا تھا!
میں بھی بہت عجیب ہوں، اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
آج کے ڈیجیٹل دور میں سچائی کسی غار میں نہیں، بلکہ ”ٹرول فارمز” کے سرورز میں پلتی ہے۔ یہاں سچ وہ ہے جو ٹرینڈ کر جائے۔ چاہے وہ ”ہیکڈ دستاویزات” ہوں یا ”مقدس اعدادوشمار”۔ سچ اب ایک ”پرفارمننگ آرٹ” بن چکا ہے۔ اسٹیج بدلتا ہے، تو ساتھ ہی کردار بھی بدل جاتے ہیں، ڈائیلاگ وہی رہتے ہیں۔ ہم نے سچائی کو ”برینڈ” بنا لیا ہے۔ ”سرکاری سچ”، ”اپوزیشن سچ”، ”مثبت رپورٹنگ کا سچ”، ”مذہبی سچ”۔ ہر ایک کا الگ پیکیج، الگ مارکیٹ، الگ کنزیومر۔
مصطفی زیدی نے کیا خوب چبھتا سچ کہا تھا
سچائی اک قحبہ تھی جو رات کو تھک کرسوئی ہوئی تھی،
شور سنا تو خوف کے مارے تھر تھر کانپی
روزِ عدالت سے گھبرائی
بھیس بدل کر پیچھے نکلی
آگے آگے مشرق کے پنڈت
مغرب کے گرجا والے”
ہماری سچائی بھی بھیس بدلنے کی ماہر ہے، کبھی ”انقلاب” کا لباس پہنتی ہے،اور جن کے خلاف انقلاب آنا ہوتا ہے وہ” مسخرے” حبیب جالب کے اشعار اسٹیج پر سناکر انقلاب کا تمسخر اڑاتے ہیں کبھی طاقتوروں کے سامنے ”مصلحت” کا برقعہ اوڑھ لیتی ہے۔ اشراف تو کیا اجلاف بھی اب سمجھ چکے ہیں کہ ان پجاریوں کا اصل مندر ”اقتدار” ہے، اور ان کا اصل دیوتا ”کرسی”، جس کے سامنے سچائی کی قربانی دی جاتی ہے، پھر اسی کا قیمہ عوام کے تھال میں ڈالا جاتا ہے کہ تم بھی اسے ذرا کی ذرا چکھو مگر پیار سے۔
خداوندا! ہماری اس سچائی پر تھوڑی سی ”شرم” کی بارش برسا، تاکہ اس کے چہرے کا بھوت پن کچھ ہلکا پڑے۔ اسے وہ عطا کر کہ یہ آئینے کے علاوہ دوسروں کے چہروں پر بھی نظر ڈال سکے۔ ان تھکے ہوئے، بے یقین ہوئے سینوں کو توفیق دے کہ ‘صادق و امین’ کے تمغے اپنے سینے سے اتار کر تھوڑا سا ‘انسان بن سکیں۔ اور ہمیں بھی وہ عقل دے کہ ہم ہر ”نعرے” کو مقدس کتاب نہ سمجھیں، ہر ”لیڈر” کو مسیحا نہ ٹھہرائیں، اور ہر ”بیان” کو وحی سمان نہ مانیں۔ ہمیں اتنی فراست دے کہ ہم ”سچائی کے نام نہاد دیوتائوں” اور ”مصلحت کے پٹواریوں” کے درمیان پستے رہنے کے بجائے، اپنی عقلِ سلیم کو استعمال کرنا شروع کر دیں۔ جو اب بھی سچائی کو آئینہ نہیں، ایک ٹول ہی سمجھتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کے سامنے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔