Express News:
2026-06-03@02:37:16 GMT

زرعی برآمدات بڑھانے کے لیے لائحہ عمل

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

صبح کے دھندلکے میں کسان اپنے کھیت میں کھڑا گندم کی فصل کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ اس خاموشی میں ریڈیو کی مدھم آواز میں جیسے جان پڑ گئی ہو۔ کیونکہ وزیر اعظم نے جو کچھ کہا اس سے وہ چونکا نہیں بلکہ اس کے ولولے ایک بار پھر جوان ہو گئے۔ اس نے ضرور سوچا ہوگا کیا ہم گندم کا برآمدی ملک بن جائیں گے؟ کیا چین کی برآمدات میں اضافہ ہوگا؟ وزیر اعظم کہہ رہے تھے کہ زرعی برآمدات بڑھانے کے لیے لائحہ عمل بنایا جائے، اور وہ شاید یہ بھی سوچ رہا ہو کہ پاکستان بننے سے پہلے سندھ کی وادی اور پنجاب کے دریا مل کر اتنا اناج اگاتے تھے کہ گندم،گنا، چاول، سبزیاں، پھل وافر مقدار میں پیدا ہوتی تھیں اور انگریز ان زرعی اشیا کو مال گاڑی میں بھر بھر کر کراچی کی بندرگاہ تک لے کر جاتے۔

ان زرعی برآمدات کی خاطر انگریزوں نے کراچی سے پشاور تک ٹرین چلائی۔ کراچی کی بندرگاہ کو ترقی دی۔ پیداوار میں اضافے کی خاطر پاکستان کو ایک زبردست نہری نظام دیا۔ پاکستان بننے کے بعد ایسا کیا ہوا کہ ہم برآمدی ملک نہ رہے اور خوراک کا اہم درآمدی مل بن کر رہ گئے۔ گندم کی درآمد، کبھی چینی کی درآمد اور کپاس کی گانٹھوں کی درآمد کا سلسلہ چل پڑا ہے۔ہم بہت سی چیزوں کی پیداوار میں خودکفیل ہیں لیکن فوری برآمد کا ہنر نہیں آتا۔ پاکستان کا المیہ پیداوار میں اضافہ نہ ہونے کا نہیں ہے بلکہ بعض پیداوار اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ فوری برآمدات کا کوئی نظام نہیں ہے۔ البتہ ضایع کرنے کا ہنر خوب آتا ہے۔

آپ نے دیکھا ہوگا کبھی ٹماٹر 400 روپے فی کلو اور کبھی 20 روپے یا 10 روپے فی کلو کی آوازیں آ رہی ہوتی ہیں، کبھی ریڑھی والا چیخ چیخ کر پکارتا ہے 100 روپے کے 5 کلو آلو اور کبھی پیاز 250 روپے کلو اور کبھی 20 روپے کلو بکتا ہے۔ اور جب کسان کو اپنی زرعی فصل کی اتنی قیمت ہی نہیں ملتی کہ ٹرک کا کرایہ بھر کر منڈی لے کر جائے اور وہ دیکھتا ہے کہ نقصان ہو رہا ہے تو آلو، پیاز، ٹماٹر کو اسی کھیت میں دبا دیتے ہیں،کیونکہ ریاست کے پاس زرعی منصوبہ بندی نہیں۔ ہر حکومت میں پیداوار سے قبل طلب کا تخمینہ لگایا جاتا ہے۔ کہیں حکومت جب دیکھتی ہے کہ فصل بہت زیادہ ہو گئی ہے تو فوری برآمدی چینل کھول دیتی ہے۔

کہیں قیمت گرنے سے پہلے ریاست خریدار بن جاتی ہے جب کہ پاکستانی حکومت مارکیٹ کا مسئلہ کہہ کر طلب و رسد کا معاملہ قرار دے کر کسان کو لاچار مجبور بے بس کر دیتی ہے اور پھر اس کا فیصلہ یہی ہوتا ہے کہ اگلے سال یہ فصل نہیں بوتا اور پھر کیا ہوتا ہے کبھی ٹماٹر 40 روپے فی کلو، کبھی آلو سو روپے کلو اور کبھی پیاز 250 روپے فی کلو اور کبھی آم بھی اتنے زیادہ پیدا ہو کر ضایع ہو جاتے ہیں کیونکہ فوری ایکسپورٹ کا انتظام بھی نہیں ہے۔ اسی طرح بعض سبزیوں اور پھلوں کی کثرت پیداوار بھی ہے اور ہماری حکومت کے حکام اس سلسلے میں بدانتظام بھی ہیں۔ یہ منڈی پاکستانیوں کی ناکامی نہیں بلکہ حکام کی غفلت، لاپرواہی اور زرعی منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔

دنیا میں جب کسی ملک کی فصل کی پیداوار اچانک بڑھ جاتی ہے تو ایمرجنسی ایکسپورٹ پلان ترتیب دیا جاتا ہے، اگر حکومت واقعی زرعی برآمدات میں اضافے کا لائحہ عمل بنانا چاہتی ہے تو فوری زرعی ایمرجنسی میکنزم بنانا ہوگا۔ کس فصل کی پیداوار اچانک ملکی طلب سے زیادہ ہو گئی ہے۔ اگر ملک میں قیمت گر رہی ہے، کسان نقصان میں جا رہا ہو تو بیرون ملک کے تجارتی اتاشی کو جگایا جائے یا اسے یاد دلایا جائے کہ آپ کی بھی کچھ ڈیوٹیز ہیں کہ ہنگامی امپورٹ کے لیے طلب کا ڈیٹا حاصل کریں تاکہ فوری زرعی برآمدات ممکن بنائی جا سکے۔ یہ سب کچھ دنیا میں ہو رہا ہے۔ صرف پاکستان میں نہیں ہو رہا۔ ترکی ہو یا مصر یا کوئی اور بڑا زرعی ملک ایسی ہنگامی صورت حال میں فوری برآمدی چینلز کھل جاتے ہیں۔ برآمدات بڑھانے کے لیے ویلیو ایڈیشن کی حکمت عملی پر غور کیا جائے۔ بہت سی زرعی پیداوار ضایع ہونے سے بچانے کے لیے کولڈ اسٹوریج کا جال بچھایا جائے۔

کسانوں کی سہولت کے لیے موبائل وین چلائی جائیں جن میں کسانوں سے فصل لاد کر کولڈ اسٹوریج پہنچائی جائے۔ ایسے ممالک جوکہ زرعی درآمدات والے ہیں وہاں زرعی برآمدی پروموشن آفیسرز تعینات ہوں جو مقامی زبان میں مہارت رکھتا ہو اور زرعی پیداوار سبزیوں اور پھلوں کے بارے میں بھی خوب جانتا ہو۔ ان ملکوں کے سفیروں کو چاہیے کہ وہ وہاں کے بڑے بڑے زرعی امپورٹرز سے اپنے تعلقات کو بڑھائیں اور تجارتی اتاشی ان باتوں پر گہری نظر رکھے۔

زرعی برآمدات کو ون ونڈو کے تحت لے کر آئیں۔پاکستان کے کھیتوں اور کسانوں میں اتنی صلاحیت ہے اور کھیتوں میں اتنی وفاداری ہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے ظلم و ستم سے نجات دلا سکتے ہیں کیونکہ کسان کے پاس زرخیز زمین ہے، چار موسم ہیں، پانی ہے، محنت ہے، صبر ہے کمی صرف ایک چیز کی ہے وہ ہے ریاست کی مکمل سرپرستی، ریاست کا تعاون اور وہ پالیسی جو کسان دوست ہو۔ یہی کھیت جو جی ڈی پی کا 23 فی صد حصہ فراہم کرتے ہیں ، روزگار کا 37 فی صد اور غذائی سلامتی کا 100 فی صد مہیا کرتے ہیں، اگر انھی کھیتوں کو منصوبہ بندی سے جوڑ دیا جائے، ویلیو ایڈیشن سکھا دی جائے، ان کے لیے کولڈ اسٹوریج اور بیرونی منڈیوں سے رسائی آسان کر دی جائے تو یہ ہمارے ملک کو جوکہ قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے اس سے نجات دلا دیں گے۔ کئی ملکوں کی مثال سامنے ہے جنھوں نے آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کر لیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: زرعی برآمدات کلو اور کبھی روپے فی کلو ہے اور کے لیے

پڑھیں:

ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا

سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔

ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔

انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ

متعلقہ مضامین

  • ناتمام (آخری قسط)
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا