Islam Times:
2026-06-03@01:12:55 GMT

شیطان کے گھر

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

شیطان کے گھر

اسلام ٹائمز: یہ ابلیس اکیلا نہیں ہے بلکہ صاحبِ اولاد ہے۔ اس کی اولاد دنیا کے ہر گوش و کنار تک پھیلی ہوئی ہے جو اپنے جد امجد کی دی ہوئی ہدایات پر صدق دل سے عمل پیرا ہے۔ شیطان کے ایسے روحانی فرزندوں کی پاکستان میں بھی کمی نہیں ہے جو اس ملکِ پاک کو ناپاک کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ آج کل ان کی شیطنت کا نشانہ اسلامی جمہوری ایران اور اس کی قیادت ہے۔ یہ اپنے میڈیا ہاوسز، شیطانی گھروں یا کمین گاہوں سے ایران اور اس کی قیادت کو اپنے زہر میں بجھے تیروں سے مسلسل نشانے بنا رہے ہیں۔ تحریر: پروفیسر تنویر حیدر نقوی

یوں تو کہا جاتا ہے کہ خالی دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے لیکن شیطان اپنی واردات کی طرح کبھی اتنا باریک ہو جاتا ہے کہ وہ ایک بھرے دماغ میں بھی کہیں نہ کہیں اپنا مقام بنا لیتا ہے۔ ان بھرے گھروں میں بعض ”میڈیا ہاوسز“ بھی ایسے گھر ہیں جہاں شیطان نظر آئے بغیر قیام پذیر ہے۔ جب میڈیا زیادہ ایڈوانس نہیں تھا تو اس دور میں ہر محلے میں ایک ”پھاپا کٹن“ ہوا کرتی تھی جو شیطانی کام کرتی تھی۔ اس کا کام لگائی بجھائی ہوتا تھا۔ آج کا ایڈوانس میڈیا اسی پھاپن کٹن کا کام کرتا ہے۔ البتہ اس کا دائرہ کار وسیع ہوچکا ہے۔ اب اس کا دائرہ اثر افق تا بہ افق پھیلا ہوا ہے۔ یہ میڈیا اگر شیطان کے اثرات سے خالی ہو تو پیغمبرانہ کام کرتا ہے۔ بہرحال شیطان اپنی حاصل شدہ مہلت سے فائدہ اٹھا کر میڈیا کو اپنے مفادات کے لیے خوب استعمال کر رہا ہے۔ ”آرٹیفشل ٹیکنالوجی“ نے اس کے کام کو مزید آسان کر دیا ہے، جس سے  ”آبسٹریکٹ آرٹ“ اپنی ترقی یافتہ اور جدید شکل میں منظر عام پر آیا ہے۔

آج جب ہم اپنے اکثر ”میڈیا ہاوسز“ کو دیکھتے ہیں تو وہ ہمیں یہ شیطان کے ہی گھر لگتے ہیں۔ لمحہء موجود میں ہمارے اکثر میڈیا ہاوسز بین الاقوامی شہرت پانے اور ترقی کی نئی منازل طے کرنے کے لیے ”شیطان بزرگ“ یا بڑے شیطان کے گھر بنے ہوئے ہیں۔ شیطانِ بزرگ کون ہے؟ اسے جاننے کے لیے اور اسے سمجھنے کے لیے بس اتنا جاننا ہی کافی ہے کہ آج کی دنیا میں اس کا پرچم سب سے زیادہ آگ سے جلایا اور پاوں سے روندا جاتا ہے۔ یقیناً وہ امریکہ اور اس کے سربراہ سے زیادہ بزرگ کون ہو سکتا ہے؟ ابلیس نام کے شیطان نے آدم علیہ السلام کے زمانے سے ہی کہ دیا تھا کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے گا، لیکن ایسے لوگوں کو، جن کے اندر پہلے ہی سے اس کی صفات بدرجہ اتم موجود ہوں گی۔ آج کا شیطان بزرگ بھی اسی جونیئر شیطان کی سنت پر عمل پیرا ہے۔

یہ ابلیس اکیلا نہیں ہے بلکہ صاحبِ اولاد ہے۔ اس کی اولاد دنیا کے ہر گوش و کنار تک پھیلی ہوئی ہے جو اپنے جد امجد کی دی ہوئی ہدایات پر صدق دل سے عمل پیرا ہے۔ شیطان کے ایسے روحانی فرزندوں کی پاکستان میں بھی کمی نہیں ہے جو اس ملکِ پاک کو ناپاک کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ آج کل ان کی شیطنت کا نشانہ اسلامی جمہوری ایران اور اس کی قیادت ہے۔ یہ اپنے میڈیا ہاوسز، شیطانی گھروں یا کمین گاہوں سے ایران اور اس کی قیادت کو اپنے زہر میں بجھے تیروں سے مسلسل نشانے بنا رہے ہیں۔ لیکن جس طرح ذاتِ پروردگار نے ابلیس کو یہ باور کرا دیا تھا کہ اس کی مکاریوں کا اثر اس کے خاص بندوں پر نہیں گا اسی طرح آج بھی جو لوگ شیطان بزرگ کے حلقہء اثر سے باہر ہیں، وہ اس کے دام فریب میں کبھی بھی نہیں آئیں گے۔

آج جو افراد ایران اور اس کی قیادت کے خلاف بے سر و پا پروپیگنڈے میں مصروف ہیں، وہ حقیقت میں راندہءدرگاہِ خدا وندی ہیں۔ ایسے دروغ گو میڈیا پرسنز کی پھیلائی ہوئی فیک تصویروں کی بجائے اگر کوئی کیمرے کی آنکھ میں محفوظ رہبر معظم، آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی محض دو نمازوں کا منظر ہی دیکھ لے تو پھر وہ ان صحافیوں کی ان رپورٹس پر ہزار لعنت بھیجے گا جن میں کہا گیا ہے کہ امام خامنہ ای (نقل کفر، کفر نہ باشد) امریکہ کے ڈر سے فرار کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ ان دو نمازوں میں سے ایک ”مارچ 1985“ کی وہ نماز جمعہ تھی جس میں دورانِ نماز دھماکہ کیا گیا تھا لیکن رہبر معظم نے اپنا خطبہ جاری رکھا اور دوسری وہ نماز جمعہ تھی جس کی امامت آپ نے اسرائیل اور ایران کے مابین گزشتہ جنگ میں کی۔ اس حالت میں جب کہ وہ تمام اہل کفر کے براہ راست نشانے پر تھے۔
ہر خبر کو نظرِ  اہلِ خبر سے دیکھو
جو افق پر ہو وہ رہبر کی نظر سے دیکھو

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایران اور اس کی قیادت میڈیا ہاوسز شیطان کے نہیں ہے رہے ہیں کے لیے

پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ