ایران کی صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے اگر ایران میں لوگوں کو قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ امریکی مداخلت کا مطلب ایران میں فوج اتارنا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت مصیبت میں ہے، مجھے ایسا لگتا ہے کہ ایران کے کچھ شہروں پر لوگ قابض ہیں، ایرانی حکومت نے برسوں اپنے عوام کے ساتھ براسلوک کیا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت کو آج اپنی عوام کی جانب سے جواب مل رہا ہے۔
پاک بھارت جنگ کا ایک مرتبہ پھر حوالہ دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت سمیت 8 جنگیں رکوائیں، پاک بھارت جنگ میں8 طیارے گرائے گئے، پاکستانی وزیراعظم نے بھی کہا کہ صدر ٹرمپ نے10 ملین جانیں بچائیں۔
واضح رہے کہ ایران میں پُرتشدد مظاہرے شدت اختیار کرگئے ہیں، امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ مظاہروں کے دوران اموات کی تعداد 217 ہوگئی ہے۔
امریکی دعوے کی ایرانی حکام کی جانب سے تصدیق نہیں کی گئی ہے جبکہ کئی شہروں میں توڑ پھوڑ کے بعد 26 بینک، 25 مساجد، 2 اسپتال اور 48 فائر ٹرکوں کو بھی نقصان پہنچایا یا ہے، پولیس اسٹیشنز پر حملے کیے گئے اور کئی اہلکار زخمی ہوئے ہیں جبکہ تقریباً ڈھائی ہزار افراد گرفتار ہیں۔
ایران کی تازہ صورتحال میں پاکستانی سفارتخانے نے اپنے شہریوں کی سہولت کیلئے کرائسیس مینجمنٹ یونٹ قائم کردیا ہے۔
تہران میں سفیر پاکستان مدثر ٹیپو کا کہنا ہے کہ پاکستانی شہریوں کی معاونت کیلئے چوبیس گھنٹے رابطہ کیا جاسکتا ہے، اس سلسلے میں تین عہدیداروں کے فون نمبرز اور لینڈ لائن نمبر بھی فراہم کردیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہ ایران
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔