ایران میں پرتشدد مظاہرے: پاسداران انقلاب نے سخت وارننگ دے دی
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے پیشِ نظر پاسداران انقلاب نے وارننگ دی ہے کہ ملکی سلامتی کا تحفظ ریڈ لائن ہے۔
عالمی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک کی سلامتی کا تحفظ ریڈ لائن ہے اور سرکاری املاک کی حفاظت کا عہد کرتے ہیں۔
پاسداران انقلاب کا مذکورہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی قیادت کو دی گئی وارننگ اور ہفتے کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا ایران کے بہادر عوام کی حمایت کرتا ہے۔
ایران میں گزشتہ رات بھی بدامنی کا سلسلہ جاری رہا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق تہران کے مغرب میں واقع شہر کرج میں ایک بلدیاتی عمارت کو آگ لگا دی گئی جس کا ذمہ دار ’فسادیوں‘ کو ٹھہرایا گیا۔
سرکاری ٹی وی نے شیراز، قم اور ہمدان جیسے شہروں میں احتجاجی مظاہروں کے دوران جاں بحق ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کے جنازوں کے مناظر بھی نشر کیے۔
ملک کے سرکاری ٹی وی سے نشر ہونے والے ایک بیان میں پاسداران انقلاب نے کہا کہ دہشتگردوں نے گزشتہ دو راتوں کے دوران فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اڈوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں متعدد شہری اور سکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے جبکہ املاک کو بھی نذر آتش کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ 1979 کے اسلامی انقلاب کی کامیابیوں کا تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنا سرخ لکیر ہے اور موجودہ صورتحال کا تسلسل ناقابل قبول ہے۔
ایرانی فوج، جو پاسداران انقلاب سے الگ کام کرتی ہے، نے اعلان کیا کہ وہ قومی مفادات، ملک کے اسٹریٹجک انفراسٹرکچر اور عوامی املاک کی حفاظت اور نگہبانی کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاسداران انقلاب نے
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔