ایلون مسک کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) نے احتجاج اور ہڑتالوں کے درمیان ایران سے متعلق ایک غیر معمولی اور علامتی تبدیلی کردی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایکس پر ممالک کے پرچم کی ایموجیز میں ایک حیران کن تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے جو ایران سے متعلق ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اب ایران کے پرچم والی ایموجی میں موجودہ ایرانی پرچم کی علامت کو ہٹا کر سابق شاہی دور کی علامت واضح کردی گئی۔

اس تبدیلی کے بعد موجودہ اسلامی جمہوریہ ایران کے پرچم کی جگہ اب شاہی دور کا شیر اور سورج والا پرچم دکھایا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایرانی پرچم میں تبدیلی ایک صارف کی درخواست پر کی گئی ہے جس نے ایکس کی ایک اعلیٰ عہدیدار نکیتا بیئر سے یہ مطالبہ کیا تھا۔

جس پر نکیتا بیئر نے مختصر جواب میں کہا تھا کہ مجھے چند گھنٹے دیں اور پھر چند ہی گھنٹوں بعد پلیٹ فارم پر ایرانی پرچم کی جگہ شاہی دور کا پرچم نظر آنے لگا۔

چونکہ یہ تبدیلی retroactive تھی، اس لیے اس کا اطلاق ماضی میں استعمال ہونے والے تمام فلیگ ایموجیز پر بھی ہو گیا۔

جس کے نتیجے میں کچھ دیر کے لیے ایران کے سرکاری حکومتی اکاؤنٹس کے ناموں کے ساتھ بھی شیر اور سورج والا شاہی دور کا پرچم دکھائی دینے لگا۔

یہ معاملہ وائرل ہونے کے بعد ایران کے سرکاری اکاؤنٹس نے فوری طور پر اپنے یوزر نیمز سے پرچم ایموجی ہٹا دی اور اس کی جگہ اسلامی جمہوریہ کے قومی نشان ہلال اور تلوار پر مشتمل علامت کو شامل کر لیا۔

خیال رہے کہ 80 کی دہائی میں انقلاب ایران نے بادشاہت کا خاتمہ کیا تھا اور اس کے ساتھ ہی شاہی پرچم میں تبدیلی کی گئی تھی۔

یہ تبدیلی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایران کے آخری شاہ کے بیٹے سابق ولی عہد رضا پہلوی بیرونِ ملک سے اسلامی جمہوریہ کے خلاف جاری احتجاجی تحریک میں ایک نمایاں کردار کے طور پر ابھرے ہیں۔

رضا پہلوی نے حالیہ دنوں میں ملک گیر ہڑتالوں اور بڑے پیمانے پر مظاہروں کی حمایت کرتے ہوئے ایرانی عوام کو سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: شاہی دور کا پلیٹ فارم ایران کے ایکس پر پرچم کی

پڑھیں:

شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان

ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ