پی ٹی آئی کا اجازت کے باوجود باغ جناح میں جلسہ نہ کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
کراچی:
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے حکومت سندھ کی جانب سے اجازت ملنے کے باوجود باغ جناح میں جلسہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی مزار قائد پر حاضری کے موقع پر جلسہ ہوگا۔
ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کراچی کی ترجمان فوزیہ صدیقی نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے پی ٹی آئی کو باغ جناح میں جلسے کی اجازت دینے کے باوجود ہم اس مقام پر جلسہ نہیں کریں گے کیونکہ اب ہم جلسے کی تیاری نہیں کرسکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ تحریک انصاف اب آج اتوار کو مزار قائداعظم عوامی گیٹ پر دوپہر 2 بجے عوامی جلسہ کرے گی۔
فوزیہ صدیقی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ حکومت سندھ اپنی لومڑی والی چالبازیوں سے باز نہیں آئے گی اور ہفتے کی شام تک مسلسل تیاریوں کے باوجود ہمیں این او سی جاری نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہفتے کی شام کو سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کراچی قیادت کے ہمراہ باغ جناح میں پریس کانفرنس تک کی تب تک بھی این او سی جاری نہیں کیا گیا اور اچانک سے ڈسٹرکٹ کمشنر ایسٹ نے شام ساڑھے6 بجے این او سی جاری کردیا جو انتہائی بدنیتی پر مبنی ہے۔
فوزیہ صدیقی نے کہا کہ یہ چاہتے ہی نہیں تھے کہ اجازت دی جائے، پی ٹی آئی کو اور حکومت سندھ کو سب معلوم تھا یا یہ پہلے کہہ دیتے کہ پوچھ کے بتائیں گے تو ہمارا وقت ضائع نہیں ہوتا لیکن کل جو عوامی طاقت کراچی میں دیکھ لی، اس سے یہ سب خوف زدہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کو سمجھ ہی نہیں آرہا کہ اب کریں تو کریں کیا، حکومت سندھ لومڑی والے کام نہ کرے، کراچی کے عوام اتوار کو مزار قائد عوامی گیٹ پر دوپہر 2 بجے اپنے مہمان وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ساتھ موجود ہوں گے۔
ترجمان پی ٹی آئی نے کہا کہ کراچی میں ہم اب جلسہ عوامی گیٹ کے سامنے کریں گے، اتوار کو کراچی نکلے گا، حکومت سندھ کانپ رہی ہے، حکومت سندھ عوامی طاقت سے کانپ رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حکومت سندھ کے باوجود نے کہا کہ پی ٹی آئی
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔