کراچی میں سردی کی لہر برقرار، درجہ حرارت سنگل ڈیجیٹ میں
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی میں موسم ایک بار پھر سرد ہوگیا ہے اور آئندہ چند روز تک سردی کم ہونے کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں۔
ماہرینِ موسمیات کے مطابق کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں جاری سردی کی لہر مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جس کے باعث درجہ حرارت میں مزید کمی ریکارڈ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں شہر کا کم سے کم درجہ حرارت مسلسل سنگل ڈیجیٹ میں ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق کراچی میں آنے والے دنوں کے دوران کم سے کم درجہ حرارت 8 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف شہری علاقوں بلکہ مضافاتی اور دیہی علاقوں میں بھی سردی کی شدت کو نمایاں طور پر بڑھا رہی ہے۔
شہر میں رات اور صبح کے اوقات میں ٹھنڈی ہواؤں کے باعث سردی زیادہ محسوس کی جا رہی ہے، جب کہ دن کے اوقات میں بھی موسم معمول سے کہیں زیادہ خنک رہنے کا امکان ہے۔ شہریوں کی بڑی تعداد نے اس اچانک سردی کے باعث گرم ملبوسات کا دوبارہ استعمال شروع کر دیا ہے۔
چیف میٹرولوجسٹ کراچی امیر حیدر لغاری کے مطابق موجودہ سردی کی لہر منگل تک برقرار رہ سکتی ہے۔ حالیہ دنوں میں مغربی بارشوں کے نظام کے اثرات کے باعث درجہ حرارت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ قدرتی موسمی عمل کے تحت مغربی سسٹم کے گزرنے کے بعد اس کے بعد ٹھنڈی ہوائیں فعال ہو جاتی ہیں، جو درجہ حرارت کو مزید نیچے لے جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی جیسے ساحلی شہر میں بھی اس مرتبہ سردی کی شدت غیر معمولی محسوس کی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق جب مغربی سسٹم مکمل طور پر علاقے سے نکل جاتا ہے تو اس کے بعد سائبیرین ہوائیں فعال ہو جاتی ہیں، جو سردی میں اضافے کا بڑا سبب بنتی ہیں۔ ان ہواؤں کے اثر سے راتیں زیادہ سرد اور صبح کے اوقات خاص طور پر یخ ہو جاتے ہیں۔ کراچی میں بھی یہی صورتحال سامنے آ رہی ہے، جس کے باعث شہریوں کو گھروں سے باہر نکلتے وقت اضافی احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے، خاص طور پر بزرگوں اور بچوں کے لیے سردی زیادہ تکلیف دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی میں آئندہ 10 روز کے دوران بارش کے کسی نئے نظام کے اثر انداز ہونے کا امکان نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موسم خشک اور سرد رہے گا، جب کہ درجہ حرارت میں اتار چڑھاؤ بنیادی طور پر سرد ہواؤں کی شدت پر منحصر ہوگا۔ شہری علاقوں میں دھند یا ہلکی کہر کے امکانات بھی خارج از امکان نہیں، جو صبح کے اوقات میں حدِ نگاہ کو متاثر کر سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کراچی میں کے مطابق کے اوقات سردی کی سکتی ہے کے باعث میں بھی رہی ہے
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔