جمہوریت، طاقت اور عوام کی بے دخلی
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
کہاں سے بات شروع کریں؟
شاید وہاں سے جہاں الفاظ اپنی معنویت کھو بیٹھتے ہیں، جہاں جمہوریت محض ایک خوش نما خیال بن چکی ہے اور جہاں عوام جن کے نام پر حکومت بنائی جاتی ہے، اقتدارکے ایوانوں سے باہر دھکیل دیے جاتے ہیں۔
جمہوریت ایک ایسا لفظ جسے ہر آمر، ہر سامراجی طاقت، ہر سرمایہ دار نظام، اپنی سہولت کے مطابق استعمال کرتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا جمہوریت واقعی عوام کی حکمرانی ہے یا صرف ایک ایسا پردہ جس کے پیچھے طاقتور اپنے مفادات کا کھیل کھیلتے ہیں؟
ہمیں بتایا گیا تھا کہ جمہوریت میں عوام حاکم ہوتے ہیں، لیکن ہم جس دنیا میں سانس لے رہے ہیں وہاں 98 فیصد عوام کی رائے، زندگی، تکلیف اور خواہشات کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا ہے اور دو فیصد اشرافیہ کارپوریٹ ادارے، عسکری اتحاد، عالمی مالیاتی ادارے فیصلہ کرتے ہیں کہ کون ملک آزاد ہے اورکون ناکام ریاست ،کون لیڈر جمہوری ہے اورکون آمر۔
وینز ویلا کے منتخب صدر اور ان کی اہلیہ کا اغوا، یہ واقعہ محض ایک خبر نہیں، یہ جمہوریت کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے۔ ایک ایسا صدر جو عوام کے ووٹ سے منتخب ہوا ،جس نے غربت کے خلاف بات کی، جس نے تیل کی دولت پر عوام کے حق کی بات کی اچانک غیر جمہوری قرار دے دیا جاتا ہے۔
کیوں اس لیے کہ اس نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کے سامنے سر جھکانے سے ان کارکیا۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں جمہوریت کی اصل تعریف عیاں ہو جاتی ہے اگر آپ سامراج کے مفادات کے ساتھ ہیں تو آپ جمہوری ہیں اگر آپ عوام کے ساتھ کھڑے ہیں تو آپ خطرہ ہیں۔
جمہوریت کے یہ دعوے دار صرف اپنی مرضی کی جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، وہ جمہوریت جو ان کے بینک اکاؤنٹس، ان کی ملٹی نیشنل کمپنیوں، ان کے اسلحہ ساز کارخانوں اور ان کے عالمی تسلط کو تحفظ دے۔
ایسی جمہوریت جہاں ووٹ ڈالنے کی اجازت تو ہو مگر معاشی فیصلے عوام کے ہاتھ میں نہ ہوں۔ ایسی جمہوریت جہاں پارلیمان موجود ہو، مگر پالیسیاں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک تحریرکریں۔
ہمیں یہ بھی بتایا جاتا رہا ہے کہ امریکا جمہوریت کا علمبردار ہے مگر اس علمبرداری کی تاریخ غلامی، نسل کشی، فوجی بغاوتوں اور منتخب حکومتوں کے تختے الٹنے سے بھری پڑی ہے۔
لاطینی امریکا، افریقہ، مشرقِ وسطیٰ کہاں کہاں جمہوریت کو برآمد نہیں کیا گیا اور ہر بار اس برآمدات کے ساتھ خون، غربت اور عدم استحکام بھی آیا۔ وینز ویلا اس طویل فہرست کا تازہ نام ہے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ فلاں لیڈرکامل ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ فیصلہ کرنے کا حق کس کے پاس ہے؟ اگر واقعی جمہوریت عوام کی حکمرانی ہے تو پھر کسی بیرونی طاقت کو یہ اختیارکس نے دیا کہ وہ منتخب صدرکو اغوا کرے، پابندیاں لگائے، معیشت کو مفلوج کرے اور پھرکہے کہ عوام خوش نہیں۔
حقیقی جمہوریت وہ نہیں جس میں ہر پانچ سال بعد ایک پرچی ڈال کر عوام خاموش کرا دیے جائیں۔ حقیقی جمہوریت وہ ہے جس میں 98 فیصد عوام کی مرضی حکمرانی کرے نہ کہ دو فیصد سرمایہ دار طبقہ۔ حقیقی جمہوریت وہ ہے جس میں تعلیم، صحت، روزگار اور رہائش بنیادی حقوق ہوں خیرات نہیں۔ جہاں ریاست کارپوریشنزکی محافظ نہیں، بلکہ عوام کی خادم ہو۔
یہی مسئلہ ہے اگر واقعی 98 فیصد حکمران ہو جائیں تو پھر اس نظام کا کیا بنے گا جہاں چند ہاتھوں میں دولت اور طاقت ہوتی ہے۔ یہ چند لوگ باقی سب کو محکوم بنائے رکھتے ہیں۔ اس خوف کی وجہ سے ہر اس تجربے کو کچل دیا جاتا ہے جو ترقی پسند اور عوام دوست ہوتا ہے۔ اس پر آمریت انتہاپسندی یا غیر جمہوری کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔
ہم اپنے ملک کی طرف دیکھیں تو تصویر زیادہ مختلف نہیں۔ یہاں بھی جمہوریت کا شور ہے مگر عوام کے لیے روٹی، بجلی، پانی اور انصاف نایاب ہیں۔ یہاں بھی فیصلے عوام نہیں کرتے کہیں اور ہوتے ہیں۔ یہاں بھی طاقت ور طبقات جمہوریت کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور جب عوام سوال اٹھائیں تو انھیں غدار کہہ دیا جاتا ہے۔
جمہوریت صرف آئین میں لکھی چند شقوں کا نام نہیں، یہ ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ یہ جدوجہد اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک معاشی انصاف قائم نہ ہو۔ سیاسی برابری اُس وقت بے معنی ہو جاتی ہے جب معاشی صورتحال اس کے برعکس ہو۔
وینزویلا کا واقعہ ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ مسئلہ افراد کا نہیں نظام کا ہے۔ ایک ایسا نظام جو عوام کی خود مختاری کو برداشت نہیں کر سکتا۔ ایک ایسا نظام جو کہتا ہے ووٹ دو مگر ہماری شرائط پر۔
کہاں سے بات شروع کریں؟
شاید وہاں سے جہاں ہم یہ مان لیں کہ جوکچھ ہمیں جمہوریت کے نام پر بیچا جا رہا ہے، وہ جمہوریت نہیں۔ شاید وہاں سے جہاں ہم یہ سوال اٹھائیں کہ اگر عوام کی اکثریت حکمران نہیں، تو اس نظام کو جمہوریت کہنے کا حق کس کو ہے؟
حقیقی جمہوریت تب آئے گی، جب وینز ویلا، فلسطین، پاکستان اور دنیا کے تمام محکوم عوام اپنی تقدیر کے فیصلے خود کریں گے، بغیر کسی اغوا ، بغیر کسی پابندی، بغیرکسی سامراجی سرپرستی کے اور یہی وہ جمہوریت ہے جس سے طاقتور سب سے زیادہ خوفزدہ ہیں۔
جمہوریت کو کمزورکرنے کے لیے صرف فوجی مداخلت یا کھلی آمریت ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ نرم ہتھکنڈے زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ میڈیا کے ذریعے رائے عامہ کو ہموار کرنا، این جی اوز اور تھنک ٹینکس کے ذریعے مخصوص بیانیے کو فروغ دینا اور انسانی حقوق کے نام پر منتخب حکومتوں کو بدنام کرنا، اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
عوام کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ان کی بدحالی کی وجہ ان کے اپنے منتخب نمائندے ہیں جب کہ اصل طاقتیں پس منظر میں رہ کر خود کو بری الذمہ ظاہر کرتی ہیں۔ اس عمل میں عوام کے شعور کو تقسیم کیا جاتا ہے، انھیں لسانی، مذہبی اور نسلی بنیادوں پر ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کیا جاتا ہے تاکہ وہ اجتماعی طور پر سوال اٹھانے کے قابل نہ رہیں۔
جب بھوک، خوف اور غیر یقینی روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائیں تو ووٹ کی طاقت محض ایک علامت بن کر رہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی جمہوریت صرف سیاسی ڈھانچے کی تبدیلی سے نہیں آتی بلکہ سماجی شعور طبقاتی یکجہتی اور سامراجی مفادات کی پہچان سے جنم لیتی ہے۔
جب تک عوام یہ نہیں سمجھیں گے کہ ان کے مسائل مقامی نہیں بلکہ عالمی نظام سے جڑے ہیں، تب تک ہر ملک میں جمہوریت کا خواب اسی طرح پامال ہوتا رہے گا اور طاقتور طبقہ اسے ایک خوبصورت مگر کھوکھلا نعرہ بنا کر استعمال کرتا رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حقیقی جمہوریت دیا جاتا ہے ایک ایسا عوام کی جاتی ہے عوام کے ہے اور اور ان
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔