دالبندین میں نامعلوم شخص کا دھڑ اور پلاسٹک بیگ میں لپٹا سر برآمد
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
کوئٹہ:
بلوچستان کے ضلع چاغی کے صدر مقام دالبندین شہر سے ایک نامعلوم نوجوان کی لاش برآمد ہوئی ہے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق مقتول کو سر میں نزدیکی فاصلے سے ایک گولی مار کر بے دردی سے قتل کیا گیا، جبکہ سر کو پلاسٹک بیگ میں لپیٹ کر پھینک دیا گیا تھا، جو واقعے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ لاش کو پرنس فہد بن سلطان اسپتال دالبندین منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں پوسٹ مارٹم کے لیے طبی عملہ مصروف ہے۔
ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ نوجوان کی عمر 20 سے 25 سال کے درمیان ہے تاہم ابھی تک اس کی شناخت نہیں ہو سکی۔ لاش کی حالت سے لگتا ہے کہ قتل چند گھنٹے قبل کیا گیا۔
مقامی پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے موقع پر پہنچ کر جائے وقوعہ سے شواہد جمع کیے ہیں اور ملزموں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ ذاتی دشمنی، لوٹ مار یا کسی اور مجرمانہ عنصر سے منسلک ہو سکتا ہے، تاہم تفتیش جاری ہے۔
ضلع چاغی میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے، اور حالیہ مہینوں میں اس طرح کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مقامی صحافیوں اور عوام کا مطالبہ ہے کہ پولیس فوری طور پر ملزموں کو گرفتار کرے تاکہ مزید ایسے واقعات روکے جا سکیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک