جی پی او چوک، لاہور ہائی کورٹ خودکش حملے کے شہداء کی 18ویں برسی کے موقع پر لاہور پولیس نے عظیم قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔10 جنوری 2008ء کو پیش آنے والے المناک خودکش حملے میں لاہور پولیس کے 16 افسران و اہلکاروں نے مادرِ وطن پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔اس سانحے میں اے ایس آئی شیش احمد اور رفتاج احمد، کانسٹیبل محمد سلیم، منظور احمد، محمد احسن، محمد عارف اور شہباز احمد سمیت دیگر اہلکار شہید ہوئے۔ اسی طرح کانسٹیبل ریاض احمد، نعیم الرحمان، اصغر علی، محمد یعقوب، محمد منشاء، ظہیر شوکت، اعجاز احمد، شاہد غفور اور محمد اصغر نے بھی جامِ شہادت نوش کیا۔ یومِ شہداء کے موقع پر پولیس گارڈز نے لاہور میں مدفون شہید کانسٹیبل نعیم الرحمان اور کانسٹیبل محمد یعقوب کی قبور پر حاضری دی۔ پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہداء کو سلامی پیش کی، پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر شہداء کے اہلِ خانہ بھی موجود تھے۔ سی سی پی او لاہور نے شہداء کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہداء ہمارا فخر ہیں اور ان کی عظیم قربانیوں کے طفیل آج ہم پُرامن فضا میں زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔ چیف پولیس آفیسر لاہور بلال صدیق کمیانہ نے کہا کہ زندہ قومیں اپنے ہیروز کو کبھی فراموش نہیں کرتیں، شہداء کی جرات اور ان کے اہلِ خانہ کی استقامت قابلِ سلام ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک و قوم کی خاطر جانیں قربان کرنے والے بہادر سپوتوں کے ورثاء کی فلاح و بہبود کو ہمیشہ ترجیح دی جاتی رہے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: لاہور پولیس شہداء کی

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم