روبوٹ دنیا کے بہترین میڈیکل سرجن کو مات دے دیں گے‘ایلون مسک
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی کمپنی کا انسان نما روبوٹ آپٹمس صرف 3برس میں دنیا کے بہترین میڈیکل سرجنز سے بھی بہتر کارکردگی دکھا سکے گا۔ ٹیسلا کے سی ای او نے یہ دعویٰ مون شاٹس پوڈکاسٹ کے میزبان، امریکی معالج اور انجینیر پیٹر ڈیامانڈس سے گفتگو کے دوران کیا۔ ایلون مسک نے کہا اس وقت ڈاکٹروں اور بہترین سرجنز کی کمی ہے۔ ایک اچھا ڈاکٹر بننے میں بہت زیادہ وقت لگتا ہے لیکن دوسری طرف میڈیکل کے شعبہ میں مسلسل پانی معلومات نئی معلومات سے تبدیل ہو رہی ہوتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں ڈاکٹروں کے لیے ہر چیز کے ساتھ چلنا مشکل ہے۔ ڈاکٹروں کے پاس محدود وقت ہوتا ہے، وہ غلطیاں بھی کرتے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت دنیا میں موجود ماہر ترین سرجنز کی تعداد کچھ زیادہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ بہترین سرجن صلاحیت رکھنے والے آپٹیمس روبوٹس کی تعداد زمین پر موجود تمام سرجنز سے بھی زیادہ ہو جائے۔ایلون مسک نے پہلی بار 2022 ء میں آپٹیمس روبوٹ کے پروٹوٹائپ متعارف کرائے تھے اور کہا تھا کہ ابتدائی پیداوار اگلے سال شروع ہو سکتی ہے۔ 2024 میں ایلون مسک نے اعلان کیا کہ ان روبوٹس کی فروخت شروع کرنے کے لیے 2026 کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔نیویارک یونیورسٹی کے گراس مین سکول آف میڈیسن کے بایوایتھکس کے پروفیسر آرتھر کیپلان نے بتایا کہ اس دعوے کے حوالے سے ایلون مسک کچھ زیادہ ہی پْرامید ہیں اور بڑے آپریشنز کے لیے روبوٹس کا وسیع پیمانے پر استعمال بہت طویل عرصے تک ناممکن رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایلون مسک نے
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔