Jasarat News:
2026-06-02@22:20:48 GMT

امیگریشن ٹیم کی کاررروائیاں‘ امریکا بھر میں مظاہرے جاری

اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر منیاپولس میں امیگریشن اہلکار کی فائرنگ سے خاتون کی ہلاکت پر امریکا بھر میںمظاہرے شروع ہوگئے۔ خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق شہری آزادیوں اور مہاجرین کے حقوق کی تنظیموں نے ہفتے کے روز ملک گیر مظاہروں کا اعلان کیا جن میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئس ) کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کے خاتمے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ بدھ کے روز ایک آئس اہلکار نے 3بچوں کی ماں 37 سالہ رینی گڈ کو رہائشی علاقے میں گاڑی چلاتے ہوئے گولی مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ واقعہ اس وقت رونما ہوا تھا جب منیاپولس میں تقریباً 2ہزار وفاقی اہلکار تعینات کیے گئے تھے، جسے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی قرار دیا تھا۔ اس تعیناتی کو ریاست کے ڈیموکریٹک گورنر ٹم والز نے غیر ذمے دارانہ قرار دیتے ہوئے اسے ریئلٹی ٹی وی طرز کی حکمرانی کہا۔ اہل خانہ اور مقامی کارکنوں کا کہنا تھا کہ رینی گْڈ اْن رضاکار گروپوں کا حصہ تھیں جو آئی سی ای کی سرگرمیوں کی نگرانی اور ریکارڈنگ کرتے ہیں۔ جبکہ ہوم لینڈ سیکیورٹی اور ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کا دعویٰ ہے کہ رینی گڈ اہلکاروں کو روکنے اور تعاقب میں مصروف تھیں اور انہوں نے اپنی گاڑی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کی، جس پر اہلکار نے اپنے دفاع میں انہیں نشانہ بنایا۔ تاہم منیا پولس کے میئر جیکب فرے نے کہا کہ عینی شاہدین کی ویڈیو وفاقی حکومت کے موقف کی تردید کرتی ہے۔ منی سوٹا اور ہینپِن کاؤنٹی کے حکام نے متضاد بیانات کے بعد واقعے کی علاحدہ فوجداری تحقیقات کا آغاز کردیا ہے، جو ایف بی آئی کی وفاقی تحقیقات کے علاوہ ہوں گی۔ اس پیش رفت پر وفاقی اور ریاستی حکومت کے درمیان کشیدگی بھی بڑھ گئی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ واقعہ جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے مقام کے قریب پیش آیا، جس نے 2020 ء میں امریکا بھر میں نسلی انصاف کی تحریک کو جنم دیا تھا۔ تازہ واقعے کے بعد منی ایپلس، پورٹ لینڈ اور دیگر شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج کیا، جبکہ مزید مظاہرے ہفتے اور اتوار کو متوقع ہیں۔تجزیہ کار وں کا کہنا ہے کہ 2020ء میں جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے بعد مظاہروں کی تاریخ دہرائے جانے کا امکان ہے۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔

امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔

امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔

پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار