Jasarat News:
2026-06-03@02:12:30 GMT

ایران میں کون سا انقلاب آنے کو ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سرکاری دفاتر ،30سے زاید مساجد اور درجنوں امام بارگاہوں کونذ رِ آتش کرنے والوں کا اسلام سے کیا تعلق ہو سکتا ہے جس کا مقصدیہ ہے کہ ان ہنگاموں میں عالمی استعماری قوت ملوث ہیں۔ایران کے ہنگاموںکو اب 15دن گزر چکے ہیںاے ایف پی کے مطابق تہران میں 29 دسمبر 2025 کو معاشی حالات اور کرنسی کی قیمت میں کمی کے خلاف احتجاج کے دوران دکاندار اور تاجر ایک پل سے گزر رہے ہیں۔گذشتہ تقریباً 50 برسوں میں مشرق وسطیٰ میں غالباً صرف ایک صورت حال ایسی ہے کہ جس میں فریب کی حد تک ہی سہی، کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور وہ ایران میں مذہبی قیادت کی حکمرانی ہے۔ عالمی میڈیا یہ بتا رہا ہے کہ اب یہ صورت حال تبدیل ہونے کے قریب ہو سکتی ہے، جس میں حکومت کی تبدیلی یا افراتفری یا ان دونوں کا امکان موجود ہے اور اس کے ملک، خطے اور اس سے باہر بھی دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔گذرے کے دوران، تہران میں بڑے پیمانے پر سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے، جو تیزی سے پورے ملک یعنی مشرق، مغرب اور جنوب میں پھیل چکے ہیں۔

یہ تو نہیں معلوم ہے کہ ایرانی ہنگاموں کا مر کز معیشت ہے لیکن یہ عام کے بجائے یہ خاص مقاصد کے تحت ہو رہے ہیں۔اس کی فوری وجوہات معاشی ہیں یعنی گذشتہ چھ ماہ کے دوران امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی قدر میں تقریباً 60 فیصد کمی، ایندھن اور گھریلو توانائی کی قلت اور تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی، جس سے کھانے پینے کی کئی اشیا کی قیمتوں میں 70 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث بہت سے لوگ اپنے پہلے سے گرے ہوئے معیارِ زندگی برقرار رکھنے کے وسائل سے محروم ہو گئے ہیں۔ ان حالات میں جب کہ سابقہ احتجاجی مظاہرے، خاص طور پر 2022 کے وہ مظاہرے جو حجاب درست طریقے سے نہ کرنے کے الزام میں زیر حراست نوجوان خاتون مہسا امینی کی موت کے باعث شروع ہوئے تھے، صرف ایک مقصد تک محدود تھے اور عام طور پر دارالحکومت کے تعلیم یافتہ افراد تک ہی محدود رہے لیکن تازہ احتجاج تہران سے کہیں آگے نکل چکا ہے اور اس میں پہلے ہی عوام کے بہت بڑے اور مختلف طبقے شامل ہو رہے ہیں۔

بازار کے تاجروں اور چھوٹے دکانداروں نے احتجاج میں شامل ہونے کے لیے اپنے کاروبار بند کردیے ہیں۔ متوسط طبقے کے کارکنوں کے ساتھ ساتھ طلبہ بھی ان مظاہروں میں شامل ہو گئے ہیں اور ان مظاہروں نے کئی مقامات پر براہ راست سیاسی اور انتظامیہ مخالف رنگ اختیار کر لیا ہے، جن میں مذہبی رہنمائوں کی حکمرانی کے خاتمے کے مطالبات شامل ہیں اور بعض صورتوں میں تو شاہ کے دور کی یاد میں نعرے بھی لگائے جا رہے ہیں۔ اب یہ بالکل ممکن ہے کہ بے چینی کی یہ لہر محض اس بتدریج بڑھتے ہوئے انتشار کا ایک نیا سلسلہ ثابت ہو جسے مذہبی حکومت کے خاتمے تک، اگر ایسا کبھی ہوا تو، ابھی طویل سفر طے کرنا ہے، لیکن یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ انقلابات جب آتے ہیں، تو وہ بظاہر اچانک کہیں سے بھی نمودار ہو سکتے ہیں۔ توقعات سے کہیں زیادہ شدت اختیار کر سکتے ہیں اور حکومت کو خاتمے کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ غیر جمہوری حکومتیں اقتدار میں ہونے کی ہر علامت ظاہر کرسکتی ہیں، جب تک کہ وہ اچانک اقتدار سے محروم نہ ہو جائیں۔ ایسی ہی ایک عوامی تحریک تھی جس نے 1979 میں غیر ملکی جلاوطنی سے واپسی پر آیت اللہ خمینی کو اقتدار تک پہنچایا تھا۔خمینی کی واپسی سے بادشاہت کے خاتمے تک صرف 10 دن لگے اور اس کے مزید دو ماہ بعد ایک ریفرنڈم کے ذریعے ایران کے اسلامی جمہوریہ ہونے کی تصدیق کر دی گئی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ تقریباً تین نسلیں گزرنے کے بعد، مذہبی طرز حکومت کی کشش اپنی مدت پوری کر چکی ہو اور اس کے ساتھ ہی، اقتدار پر اس کی گرفت بھی؟

اس امکان کو رد نہیں کرنا چاہیے، لیکن اس کے بعد جو کچھ ہو سکتا ہے اس کے مختلف مراحل ہیں۔ ایران کے ’پاسداران انقلاب‘ ماضی میں بے رحمانہ کارروائیاں کرنے سے نہیں ہچکچائے۔ اس کی مثال 2022 کے اقدامات ہیں، جب پرتشدد جبر کے نتیجے میں خواتین کے حقوق کے احتجاج بتدریج دم توڑ گئے تھے اور وہ اب بھی جسمانی اور سیاسی جبر کے وہی طریقے اپنا رہی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ’پاسداران انقلاب‘ اور ان کے مذہبی رہنما اس سلسلے میں کس حد تک جانے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ان میں ارادہ یا اس سے بڑھ کر، ’تیان من سکوائر‘ جیسے کسی ’حل‘ کی جانب بڑھنے کی صلاحیت موجود ہے؟
کئی عوامل ایسے دکھائی دیتے ہیں جو اس امر کے خلاف جاتے ہیں۔ ملک اور اس کے مظاہرین کو بیرونی دنیا سے الگ تھلگ کرنا اب چار دہائیوں پہلے کی نسبت کہیں زیادہ مشکل ہے۔ ایرانی تارکین وطن متحرک اور محب وطن ہیں۔ آیت اللہ اب ضعیف ہو چکے ہیں اور ان کی اتھارٹی گذشتہ سال کے امریکی اور اسرائیلی حملوں سے کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جنہیں اب ’12 روزہ جنگ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ معیار زندگی کے بارے میں بے چینی اب تقریباً ہر جگہ پائی جاتی ہے۔

29 دسمبر 2025 کو تہران میں دکاندار اور تاجر معاشی حالات اور ایرانی کرنسی کے خلاف سڑک پر احتجاج کر رہے ہیں
برسوں تک ایران کے ساتھ ایک علاقائی الگ تھلگ ملک اور ایک سرکش ریاست کے درمیان والا سلوک کرنے کے بعد (جس کی وجہ اس کے جوہری عزائم سمجھے جاتے ہیں، جن کی ایران تردید کرتا ہے)، بیرونی دنیا کو اب اچانک موجودہ سال میں جلد یا بدیر ایران میں بڑی تبدیلی کے امکان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک غیر مستحکم اور پر انتشار ایران اپنے پڑوسیوں، پہلے مرحلے میں عراق اور ترکی کو اپنے مفاد کے لیے چھوٹے حصوں پر قبضے کی ترغیب دے سکتا ہے، جس سے نئے علاقائی تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔
اسرائیل پہلے ہی ایران کی فوجی صلاحیتوں پر، چاہے وہ جتنی بھی باقی بچی ہوں، ایک نئے حملے کی دھمکی دے رہا ہے اور امریکہ بھی یہ دعویٰ کرتے ہوئے اس میں شامل ہو سکتا ہے کہ دنیا کو ’بے لگام ایٹمی ہتھیاروں‘ یا خطے میں ایک نئی جوہری طاقت سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔

لیکن ایران میں بے چینی جتنی بڑی دھمکی ہے اتنے ہی بڑے مواقع کی نوید بھی ہے۔ اگر اس سب کے نتیجے میں ایک ایسا ایران ابھرتا ہے، جس کے ہتھیار بین الاقوامی کنٹرول میں ہوں، ایک ایسا ایران جو خطے میں دوسری جگہوں پر مداخلت بند کر دے اور ایک ایسا ایران جو دنیا کے ساتھ دوبارہ جڑنے اور اس داخلی جدیدیت کے منصوبے پر واپس آنے کا خواہش مند ہو، جو اسلامی انقلاب کی وجہ سے رک گیا تھا، تو یہ ایک انتہائی مثبت تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔
جب تک ایران کی مستقبل کی سمت غیر یقینی ہے، بیرونی دنیا کے لیے بہتر یہی ہو گا کہ وہ اس معاملے سے الگ رہے۔ یہ یاد رکھے کہ ایران ایک قدیم تہذیب ہے، جس میں اپنی قومی شناخت کا بھرپور احساس موجود ہے اور ایسا کچھ نہ کرے، جس سے اس کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچے۔ نیا سال پہلے ہی ایک بہت ہی خاص حوالے سے دنیا کی حالت بہتر بنانے کا دہائیوں میں ایک بار آنے والا موقع پیش کر رہا ہے اور اگر یہ واقعی ایک موقع ہے، تو اسے ضائع نہیں ہونا چاہیے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کہ براوں سے ایران امریکا ،اسرائیل اور یورپی ممالک حلق کی وہ ہڈی جس وہ نہ نگل پا رہے اور نہ اُگلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

قاضی جاوید گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایران میں اور اس کے ایران کے سکتے ہیں شامل ہو کے ساتھ ہیں اور سکتا ہے رہے ہیں ہے اور اور ان کے لیے

پڑھیں:

امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے

اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔

ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔

(جاری ہے)

جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔

قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔

آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔

ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔

جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔

وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔

تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔

یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔

سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔

خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔

دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔

ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔

7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔

آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود