Jasarat News:
2026-07-24@04:41:39 GMT

ایران میں کون سا انقلاب آنے کو ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سرکاری دفاتر ،30سے زاید مساجد اور درجنوں امام بارگاہوں کونذ رِ آتش کرنے والوں کا اسلام سے کیا تعلق ہو سکتا ہے جس کا مقصدیہ ہے کہ ان ہنگاموں میں عالمی استعماری قوت ملوث ہیں۔ایران کے ہنگاموںکو اب 15دن گزر چکے ہیںاے ایف پی کے مطابق تہران میں 29 دسمبر 2025 کو معاشی حالات اور کرنسی کی قیمت میں کمی کے خلاف احتجاج کے دوران دکاندار اور تاجر ایک پل سے گزر رہے ہیں۔گذشتہ تقریباً 50 برسوں میں مشرق وسطیٰ میں غالباً صرف ایک صورت حال ایسی ہے کہ جس میں فریب کی حد تک ہی سہی، کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور وہ ایران میں مذہبی قیادت کی حکمرانی ہے۔ عالمی میڈیا یہ بتا رہا ہے کہ اب یہ صورت حال تبدیل ہونے کے قریب ہو سکتی ہے، جس میں حکومت کی تبدیلی یا افراتفری یا ان دونوں کا امکان موجود ہے اور اس کے ملک، خطے اور اس سے باہر بھی دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔گذرے کے دوران، تہران میں بڑے پیمانے پر سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے، جو تیزی سے پورے ملک یعنی مشرق، مغرب اور جنوب میں پھیل چکے ہیں۔

یہ تو نہیں معلوم ہے کہ ایرانی ہنگاموں کا مر کز معیشت ہے لیکن یہ عام کے بجائے یہ خاص مقاصد کے تحت ہو رہے ہیں۔اس کی فوری وجوہات معاشی ہیں یعنی گذشتہ چھ ماہ کے دوران امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی قدر میں تقریباً 60 فیصد کمی، ایندھن اور گھریلو توانائی کی قلت اور تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی، جس سے کھانے پینے کی کئی اشیا کی قیمتوں میں 70 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث بہت سے لوگ اپنے پہلے سے گرے ہوئے معیارِ زندگی برقرار رکھنے کے وسائل سے محروم ہو گئے ہیں۔ ان حالات میں جب کہ سابقہ احتجاجی مظاہرے، خاص طور پر 2022 کے وہ مظاہرے جو حجاب درست طریقے سے نہ کرنے کے الزام میں زیر حراست نوجوان خاتون مہسا امینی کی موت کے باعث شروع ہوئے تھے، صرف ایک مقصد تک محدود تھے اور عام طور پر دارالحکومت کے تعلیم یافتہ افراد تک ہی محدود رہے لیکن تازہ احتجاج تہران سے کہیں آگے نکل چکا ہے اور اس میں پہلے ہی عوام کے بہت بڑے اور مختلف طبقے شامل ہو رہے ہیں۔

بازار کے تاجروں اور چھوٹے دکانداروں نے احتجاج میں شامل ہونے کے لیے اپنے کاروبار بند کردیے ہیں۔ متوسط طبقے کے کارکنوں کے ساتھ ساتھ طلبہ بھی ان مظاہروں میں شامل ہو گئے ہیں اور ان مظاہروں نے کئی مقامات پر براہ راست سیاسی اور انتظامیہ مخالف رنگ اختیار کر لیا ہے، جن میں مذہبی رہنمائوں کی حکمرانی کے خاتمے کے مطالبات شامل ہیں اور بعض صورتوں میں تو شاہ کے دور کی یاد میں نعرے بھی لگائے جا رہے ہیں۔ اب یہ بالکل ممکن ہے کہ بے چینی کی یہ لہر محض اس بتدریج بڑھتے ہوئے انتشار کا ایک نیا سلسلہ ثابت ہو جسے مذہبی حکومت کے خاتمے تک، اگر ایسا کبھی ہوا تو، ابھی طویل سفر طے کرنا ہے، لیکن یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ انقلابات جب آتے ہیں، تو وہ بظاہر اچانک کہیں سے بھی نمودار ہو سکتے ہیں۔ توقعات سے کہیں زیادہ شدت اختیار کر سکتے ہیں اور حکومت کو خاتمے کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ غیر جمہوری حکومتیں اقتدار میں ہونے کی ہر علامت ظاہر کرسکتی ہیں، جب تک کہ وہ اچانک اقتدار سے محروم نہ ہو جائیں۔ ایسی ہی ایک عوامی تحریک تھی جس نے 1979 میں غیر ملکی جلاوطنی سے واپسی پر آیت اللہ خمینی کو اقتدار تک پہنچایا تھا۔خمینی کی واپسی سے بادشاہت کے خاتمے تک صرف 10 دن لگے اور اس کے مزید دو ماہ بعد ایک ریفرنڈم کے ذریعے ایران کے اسلامی جمہوریہ ہونے کی تصدیق کر دی گئی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ تقریباً تین نسلیں گزرنے کے بعد، مذہبی طرز حکومت کی کشش اپنی مدت پوری کر چکی ہو اور اس کے ساتھ ہی، اقتدار پر اس کی گرفت بھی؟

اس امکان کو رد نہیں کرنا چاہیے، لیکن اس کے بعد جو کچھ ہو سکتا ہے اس کے مختلف مراحل ہیں۔ ایران کے ’پاسداران انقلاب‘ ماضی میں بے رحمانہ کارروائیاں کرنے سے نہیں ہچکچائے۔ اس کی مثال 2022 کے اقدامات ہیں، جب پرتشدد جبر کے نتیجے میں خواتین کے حقوق کے احتجاج بتدریج دم توڑ گئے تھے اور وہ اب بھی جسمانی اور سیاسی جبر کے وہی طریقے اپنا رہی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ’پاسداران انقلاب‘ اور ان کے مذہبی رہنما اس سلسلے میں کس حد تک جانے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ان میں ارادہ یا اس سے بڑھ کر، ’تیان من سکوائر‘ جیسے کسی ’حل‘ کی جانب بڑھنے کی صلاحیت موجود ہے؟
کئی عوامل ایسے دکھائی دیتے ہیں جو اس امر کے خلاف جاتے ہیں۔ ملک اور اس کے مظاہرین کو بیرونی دنیا سے الگ تھلگ کرنا اب چار دہائیوں پہلے کی نسبت کہیں زیادہ مشکل ہے۔ ایرانی تارکین وطن متحرک اور محب وطن ہیں۔ آیت اللہ اب ضعیف ہو چکے ہیں اور ان کی اتھارٹی گذشتہ سال کے امریکی اور اسرائیلی حملوں سے کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جنہیں اب ’12 روزہ جنگ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ معیار زندگی کے بارے میں بے چینی اب تقریباً ہر جگہ پائی جاتی ہے۔

29 دسمبر 2025 کو تہران میں دکاندار اور تاجر معاشی حالات اور ایرانی کرنسی کے خلاف سڑک پر احتجاج کر رہے ہیں
برسوں تک ایران کے ساتھ ایک علاقائی الگ تھلگ ملک اور ایک سرکش ریاست کے درمیان والا سلوک کرنے کے بعد (جس کی وجہ اس کے جوہری عزائم سمجھے جاتے ہیں، جن کی ایران تردید کرتا ہے)، بیرونی دنیا کو اب اچانک موجودہ سال میں جلد یا بدیر ایران میں بڑی تبدیلی کے امکان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک غیر مستحکم اور پر انتشار ایران اپنے پڑوسیوں، پہلے مرحلے میں عراق اور ترکی کو اپنے مفاد کے لیے چھوٹے حصوں پر قبضے کی ترغیب دے سکتا ہے، جس سے نئے علاقائی تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔
اسرائیل پہلے ہی ایران کی فوجی صلاحیتوں پر، چاہے وہ جتنی بھی باقی بچی ہوں، ایک نئے حملے کی دھمکی دے رہا ہے اور امریکہ بھی یہ دعویٰ کرتے ہوئے اس میں شامل ہو سکتا ہے کہ دنیا کو ’بے لگام ایٹمی ہتھیاروں‘ یا خطے میں ایک نئی جوہری طاقت سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔

لیکن ایران میں بے چینی جتنی بڑی دھمکی ہے اتنے ہی بڑے مواقع کی نوید بھی ہے۔ اگر اس سب کے نتیجے میں ایک ایسا ایران ابھرتا ہے، جس کے ہتھیار بین الاقوامی کنٹرول میں ہوں، ایک ایسا ایران جو خطے میں دوسری جگہوں پر مداخلت بند کر دے اور ایک ایسا ایران جو دنیا کے ساتھ دوبارہ جڑنے اور اس داخلی جدیدیت کے منصوبے پر واپس آنے کا خواہش مند ہو، جو اسلامی انقلاب کی وجہ سے رک گیا تھا، تو یہ ایک انتہائی مثبت تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔
جب تک ایران کی مستقبل کی سمت غیر یقینی ہے، بیرونی دنیا کے لیے بہتر یہی ہو گا کہ وہ اس معاملے سے الگ رہے۔ یہ یاد رکھے کہ ایران ایک قدیم تہذیب ہے، جس میں اپنی قومی شناخت کا بھرپور احساس موجود ہے اور ایسا کچھ نہ کرے، جس سے اس کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچے۔ نیا سال پہلے ہی ایک بہت ہی خاص حوالے سے دنیا کی حالت بہتر بنانے کا دہائیوں میں ایک بار آنے والا موقع پیش کر رہا ہے اور اگر یہ واقعی ایک موقع ہے، تو اسے ضائع نہیں ہونا چاہیے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کہ براوں سے ایران امریکا ،اسرائیل اور یورپی ممالک حلق کی وہ ہڈی جس وہ نہ نگل پا رہے اور نہ اُگلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

قاضی جاوید گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایران میں اور اس کے ایران کے سکتے ہیں شامل ہو کے ساتھ ہیں اور سکتا ہے رہے ہیں ہے اور اور ان کے لیے

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف